دو مریض اسپتال میں بستروں پر تھے

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) دو مریض اسپتال کے بستروں پر لیٹے ہوئے تھے، ایک شخص بیٹھنے کے قابل تھا، اس کابستر کمرے میں موجود کھڑکی کے پاس تھا۔ جب کہ دوسرا شخص پورا دن اپنے بستر پر لیٹ کر گزارتا تھا، کھڑکی والا شخص بیٹھ کر اپنے پڑوسی کو سب بتاتا جو اسے کھڑ کی سے نظر آتا تھا۔
دوسرا شخص وہ سب سننے کا انتظار کیاکرتا تھا، کھڑکی سے ایک باغ نظرآتا تھا، جس میں خوبصورت نہر بھی تھی۔ اس نہر میں بچے کھلونا کشتیاں چلاتے تھے، منظر بہت دلفریب تھا کھڑکی کے نزدیک والا برابر لیٹے ہوئے شخص کو تمام تفصیلات بتاتا اور لیٹا ہوا شخص تصور کی دنیا میں کھوجاتا تھا۔ ایک دن نرس کمرے میں داخل ہوئی اور کھڑکی والے شخص کو مردہ پایا۔ دوسرے شخص نے اپنا بستر کھڑکی کے پاس لگانے کی فرمائش کی، نرس نے ایسا ہی کیا اور کمرے سے چلی گئی اس شخص نے کہنیوں کے بل بمشکل اٹھنے کی کوشش کی تاکہ کھڑکی سے جھانک سکے۔ لیکن اسے صرف دیوار نظر آئی اس شخص نے نرس کو بلایا، اور پوچھا کہ یہاں موجود مریض وہ سب کیسے دیکھ لیتا تھا۔ جو وہ مجھے بتایا کرتا تھا؟ نرس نے بتایا وہ شخص نابینا تھا، اور یہ دیوار تک دیکھنے کے قابل نہیں تھا، وہ شاید دوسرے مریض میں زندگی کی لہر دوڑانا چاہتا تھا، اسے خوشی دینا چاہتا تھا۔ اپنی تکلیف بھول کر دوسروں کو خوشی دینے سے بڑھ کر دوسری کوئی خوشی نہیں خوشی بانٹنے سے بڑھتی ہے۔ آپ بھی دنیا میں تھوڑی سی خوشی کی وجہ بن کر اس دنیا کو مزید بہتر بنائیں جزاک اللہ۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *