دو بندے

شبینہ کا تعلق ایک بہت غریب گھرانے سے تھا ۔ وہ کل دو بہنیں تھیں ۔ بڑی بہن کی شادی ہو چکی تھی ۔ باپ کا انتقال ہو چکا تھا ۔ ماں سلائی کڑھائی اور دیگر گھریلو ہنر مندی اور دستکاری وغیرہ سے متعلق کام کر کے جیسے تیسے گھر کا خرچ چلاتی تھی ۔ بہن بیچاری خود ایک سفید پوش گھرانے میں بیاہی گئی تھی پھر بھی حسب مقدور بہن اور بیوہ ماں کا خیال رکھنے کی کوشش کرتی تھی ۔ کچھ رشتہ دار بھی مدد کر دیا کرتے تھے ۔ اس طرح گزر بس
چل رہی تھی ۔ شبینہ گاؤں کے واحد پرائمری اسکول سے پانچویں پاس کرنے کے بعد گھر کے کام کاج کے علاوہ ماں کی محنت مزدوری میں بھی ہاتھ بٹا دیا کرتی تھی جسے روزی روٹی کے حصول کے ساتھ بیٹی کے رشتے کی بھی فکر دامن گیر رہتی تھی کیونکہ اسے گھر بیٹھے اب کافی سال ہو چکے تھے غربت کی وجہ سے کوئی ڈھنگ کا رشتہ آتا ہی نہ تھا یا پھر بات بنتے بنتے رہ جاتی تھی ۔ بس انہی حالات میں دن گزر رہے تھے ۔پھر اچانک ہی شبینہ کی طبیعت خراب رہنے لگی ۔ ڈاکٹر ہو یا حکیم صاحب ، کسی کو بھی اس کی بیماری کے بارے میں کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا ۔ کوئی دوا اس پر اثر نہیں کر رہی تھی ۔ جب اس کی صحت دن بدن جواب دیتی چلی گئی اور وہ بالکل ہی بستر سے لگ گئی تو کچھ مخیر خدا ترس حضرات کے مالی تعاون سے شہر میں اس کے علاج کا بند و بست کیا گیا ۔ ٹیسٹ وغیرہ ہوئے تو یہ روح فرسا رپورٹ سامنے آئی کہ شبینہ کو بلڈ کینسر کی آخری سٹیج چل رہی ہے اور اب بیماری لا علاج ہو چکی ہے ۔

>

Sharing is caring!

Comments are closed.