دریا جاری ہوا

خدا ایسوں کی بھی سنتا ہے:صاحب روح المعانی نے لکھا ہے کہ فرعون کے پاس کچھ لوگ آئے اور کہا کہ بارش نہیں ہو رہی ہے اور دریائے نیل بند ہے، آپ جاری کرا دیجئے، اس لیے کہ آپ کو ہم نے معبود بنایا ہے۔ اس نے کہا اچھی بات ہے، دریا کل جاری ہو جائے گا
رات کے وقت اٹھاتاج شاہی پہنااور پہنچا ’’نیل‘‘ میں یا ’’قلزم‘‘ میں۔ دریا خشک تھا، تاج زمین پر رکھا اور مٹی لی، سر پر ڈالی ، اس نے کہا اے احکم الحاکمین! اے رب العالمین! میں جانتا ہوں کہ آپہی مالک ہیں، آپ ہی
سب کچھ ہیں، میں نے ایک دعویٰ کیا اور وہ بھیغلط، آج تک آپ نے اس دعوے کو نبھایا اور ظاہر کے اعتبار سے مجھے ویسا ہی رکھا، میں آپ سے دعا کرتا ہوں کہ آج بھی میری بات رہ جائے، خوب گڑگڑا کر دعا کی، وہ خدا ایسوں کی بھی سنتا ہے۔
بہرحال فرعون نے رو کر گڑگڑا کر عاجزی اور انکساری کے ساتھ دعا مانگی۔ دعا کا مانگنا تھا کہ پانی آنا شروع ہوا، سرسراہٹ محسوس ہوئی، فوراً تاج لیا اور چلا آیا اور دریائے نیل جاری ہو گیا۔

>

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *