حضورﷺ پر جب جادو ہوا توآپ ؐ نے کیا کام کیا

حضورﷺ پر جب جادو ہوا توآپ ؐ نے کیا کام کیا جس سے وہ جادو ٹوٹ گیا؟کوئی وظیفہ یا تعویذلینے کی ضرورت نہیں، چاند کی 17، 19اور 21تاریخ کو بس یہ کام کریں

>

سیرت نبویؐ کا حیران کن واقعہ حجامہ سے جا دو کا علا ج عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ سے روایت ہے کہ جب آپ ﷺپر جا دو کیا گیا تو آپ ﷺ پر حجامہ لگوا یا ۔

دنیا بھر کے لو گ اس طریقہ علا ج سے مستفید ہو رہے ہیں ۔ان خیالات کا اظہا ر حکیم محمد احمد، حکیم محمد افضل میؤ،حکیم محمد اسما عیل اختر قصوریاورحکیم ڈاکٹر شہزادہ سبطین الحسن نے مر کزالحجامہ مطبعبداللہ پریس والا با زارٹاؤن شپ لا ہورمیں حجا مہ کی افا دیت کے حوا لے سے منعقدہ مجلسِ مذاکرہ میں گفتگو کرتے ہو ئے کیا۔

انہوں نے بتا یا کہ حجامہ سنت طریقہ علا ج جادو سمیت 72سے زا ئد بیماریوں سے نجا ت کا ذریعہ ہے ۔انہوں نے بتا یا کہ سنت تاریخوں چا ند کی سترہ،اُنیس اور اکیس کو حجامہ لگوا یا جائے تو اس میں تمام بیماریوں کے لئے یقینی شفاء ہے۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے دور خلافت میں مدینہ میں ایک گویا(گانے والا) تھا جو گایا کرتا تھا طبلہ سارنگی کے بغیراس زمانے میں بھی گانابہت معیوب سمجھا جاتا تھا.جب اس کی عمر 80 سال ہو گئی تو آواز نے ساتھ چھوڑ دیا.

اب کوئی اس کا گانا نہیں سنتا تھاگھر میں فقر و فاقے نے ڈیرے ڈال لئے .ایک ایک کر کے گھر کا سارا سامان بِک گیاآخر تنگ آ کر وہ شخص جنت البقیع میں گیا اور بے اختیار رب کائنات کے سامنے دست دعا دراز کرتےہوئے گویا ہوا یا اللہ ! اب تو تجھے پکارنے کے سوا کوئی راستہ نہیں…..مجھے بھوک ہےمیرے گھر والے پریشان ہیں

یااللہ ! اب مجھے کوئی نہیں سنتا،تو تو سن ،تو تو سن میں تنگ دست ہوں تیرے سوا میرے حال سے کوئی واقف نہیں.حضرت عمرؓ مسجد میں سو رہے تھے کہ خواب میں آواز آئی عمر ! اٹھو بھاگو دوڑو..میرا ایک بندہ مجھے بقیع میں پکار رہا ہے.

حضرت عمر رضی اللہ عنہ ننگے سر ننگے پیر جنت البقیع کی طرف دوڑےکیا دیکھتے ہیں کہ جھاڑیوں کے پیچھے ایک شخص دھاڑیں مار مار کر رو رہا ہے.اس نے جب عمر ؓکو آتے دیکھا تو بھاگنے لگا سمجھا کہ مجھے ماریں گے.

حضرت عمرؓ نے کہا’’ رُکو کہاں جا رہے ہو ،میرے پاس آؤ،میں تمھاری مدد کے لیے آیا ہوں‘‘.وہ بولا آپ کو کس نے بھیجا ہے؟حضرت عمر ؓنے کہا ’’جس سے لو لگائے بیٹھے ہو مجھے اس نے تمھاری مدد کے لئے بھیجا ہے‘‘.یہ سننا تھا وہ شخص گھٹنوں کے بل گِرا اور اللہ کو پکارا.’’

یا اللہ !ساری زندگی تیری نا فرمانی کی ،تجھے بھلائے رکھا،یاد بھی کیا تو روٹی کے لئےاور تو نے اس پر بھی “لبیک” کہااور میری مدد کے لئے اپنے اتنے عظیم بندے کو بھیجا،میں تیرا مجرم ہوں،یااللہ ! مجھے معاف کردے،مجھے معاف کردے،

یہ کہتے کہتے وہ مر گیاحضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی اور اس کے گھر والوں کے لئے بیت المال سے وظیفہ مقرر فرمایا.

سبحان اللہ!بے شک اللہ بڑا غفور الرحیم اور سننے والا ہے.

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *