حضرت علی اور لونڈی

حضرت علی اور لونڈی1۔ ایک روز حضرت علی ، چھوہارے بیچنے والوں کے بازار سے گزررہے تھے کہ آپ نے ایک لونڈی کو روتے ہوئے دیکھا،آپ نے رک کر اس سے پوچھا:کیا بات ہے،کیوں رو رہی ہو؟ لونڈی نے روتے ہوئے جواب دیا:میرے مالک نے مجھ سے ایک درہم کے چھوہارے منگوائے تھے ،میں نے بازارکے ایک دوکاندار سے چھوہارا خریدے، اور اپنے مالک کے پاس لے گئی ،مگر مالک نے کہا کہ یہ خراب ہیں ،واپس کرکے آؤ! میں یہاں آئی ہوں لیکن یہ دوکاندار واپس نہیں لیتا،حضرت علی نے دوکاندار سے کہا:

>

اے اللہ کے بندے: یہ بے چاری تو ایک ملازمہ ہے اس کا اس معاملے سے کوئی ذاتی تعلق نہیں ،اس کا ردہم واپس کراور چوہارے واپس لےلے!مگر وہ دوکاندار حضرت علی کو پہچانتا نہیں تھا اس لیے لڑنے مرنے کو تیار ہو گیا ،شور سن کر لوگ ادھر ادھر سے آ گئے اور کہنے لگے: بدنصیب کیا کرتا ہے،یہ امیرالمومنین ہیں ،یہ سنتے ہی دوکاندار خوف سے پیلا پڑگیا ، اور تھرتھر کانپنے لگا،اس نے چھوہارے واپس لے کر لونڈی کا درہم واپس کردیا اور ہاتھ جوڑ کر حضرت علی سے بولا : اے امیر المومنین مجھے معاف کر دیجیے،جو کچھ ہوا میری لاعلمی کی وجہ سے ہوا کیا آپ مجھ سے راضی ہیں،حضرت علی نے کمال شفقت سے فرمایا: میں تجھ سے راضی ہوں گا، جب تو اپنے حال کی اصلاح کر لے گا!

Sharing is caring!

Comments are closed.