’’ حضرت علیؑ کے فیصلے‘‘

حضرت علیؑ سے پوچھا گیا کہ یا حضرت اگر ایک آدمی ایک کوٹھری میں بند ھو اور کھڑکی روشن دان اُس میں کوئی نہ ھو اور کوٹھری مُقفل ھو اس کوٹھری کے باہر ایک اور کمرہ ہو اور اسکے گرد ایک اور فصیل ہو اور یہ سب کچھایک قلعے میں بند ہو تو اس آدمی کا رزق کس راستے سے آئے گا حضرت علی نے فرمایاکہ اللہ بہت کریم ہے جس رستے سے اسکی موت آئے گی اسی راستے سے اسکا رزق آ جائے گا “” ایک مرتبہ رسول معظم ﷺکی خدمت میں دو شخص حاضر ہوئے ، ایک نے دعویٰ کیا حضورؐ!میرے پاس ایک گدھا تھا اور اس شخص کے پاس ایک بیل ، اس کے بیل نے میرے گدھے کو مار ڈالا

سائز اثر ڈالتا ہے! ہر آدمی کو اس کی کوشش کرنی چاہئے

جرمن تیل جو سائز بڑا کرتا ہ
، حاضرین جلسہ میں سے ایک صاحب بولے کہ جانور بے زبان پر کیا ضمان و تاوان ؟ اللہ کے حبیب حضرت محمد ﷺنے فرمایا کہ اے علیؑ ! تم ان دونوں میں تصفیہ کردو ، حضرت علیؑ نے فریقین سے سوال کیا ، یہ دونوں رسی میں بندھے تھے یا کھلے تھے یا ایک بندھا تھا اور ایک کھلا تھا ؟ فریقین نے جواب دیا گدھا بندھا تھا ، مگر بیل چھوڑا ہوا تھا اور بیل کا مالک اس کے پاس تھا ، آپؓ نے حکم دیا:بیل والے پر ضمان ہے ، گدھے کی قیمت اس کے مالک کے حوالہ کردے ، حضرت رسول الثقلین ﷺ نے حضرت علی ؑ کایہ فیصلہ بہت زیادہ پسند فرمایا اور یہی حکم جاری کیا )

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *