حضرت سلیمان علیہ سلام اور ملک الموت

اللہ اکبر ۔۔۔ ایک دن حضرت سلیمان علیہ اسلام دربار میں بیٹھے تھے کہ اتنے میں اچانک ملک الموت حضرت عزراٸیل علیہ اسلام آگئے آکر حضرت سلیمان علیہ اسلام کو سلام کیا تو سلیمان علیہ اسلام نے پوچھا کہ کیسے آنا ھوا تو حضرت عزراٸیل علیہ اسلام نے فرمایا کچھ نہیں بس ویسے آیا تھا۔
اور اُٹھ کر چلے گئے۔دربار میں موجود ایک وزیر کافی گھبرایا ھوا دکھائی دے رہا تھا ۔اورکہا سلیمان علیہ اسلام یہ کون تھا فرمایا کہ یہ ملک الموت حضرت عزراٸیل علیہ اسلام تھے۔وزیر نے کہا کہ جب وہ آئے تو مجھے غصے سے دیکھا اور جب جارھے تھے تو مزید غصے سے دیکھا مجھے ڈر لگ رہا ھے میں اپنی بہن کے پاس جانا چاھتا ھوں ۔فرمایا کہاں ھے آپ کی بہن وزیر بولے فلاں جزیرے میں، سلیمان علیہ اسلام نے فرمایا وہاں تو گھوڑا تیز رفتار سے جائے تو چھ رات اور چھ دن کا سفر ھے اپ میرا اڑن تحت لے جاؤ جلدی پہنچ جاؤگے۔وزیر چلا گیا لیکن واپس نہیں آیا کچھ دن بعد عزراٸیل علیہ اسلام پھر تشریف لےآئے تو سلیمان علیہ اسلام نے اس دن والی بات کا ذکر کیا تو عزراٸیل علیہ اسلام نے فرمایا کہ اس وزیر کا انتظار میں فلاں جزیرے پر کر رہا تھا کیونکہ اسکی روح قبض کرنے کا حکم اس جزیرے پر تھا لیکن جب میں نے دنیا پر نظر ڈالی تو وہ یہاں آپ کے پاس بیٹھا تھا تو مجھے یہاں آنا اس لیے پڑا کیونکہ راستہ چھ دن اور رات کے سفر کا تھا اور اس کے پاس تو تھوڑا ہی وقت تھا لیکن جب یہاں سے جاکر میں جزیرے پر پہنچا تو اپکے اڑن تحت پر وہ وزیر پہنچ گیا اور میں نے اسکی روح قبض کرلی۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *