حسین ترین اسرائیلی خواتین کو متحدہ عرب امارات پہنچا دیا گیا ، ان منتخب خواتین کے دورہ امارات کا مقصد کیا ہے؟ جان کر آپ بھی غصے میں آ جائیں گے

دبئی (ویب ڈیسک) گزشتہ ماہ 15 اگست کو متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے تاریخی فیصلہ کرتے ہوئے اسرائیل کو تسلیم کرکے اس سے باہمی تعلقات استوار کرنے کا اعلان کرکے دنیا کو حیران کردیا تھا۔بعد ازاں 29 اگست کو متحدہ عرب امارات کی حکومت نے اپنا اسرائیل کا بائیکاٹ کرنے والا قانون منسوخ کردیا تھا۔

دونوں ممالک میں تعلقات کی بحالی کے بعد پہلی بار 31 اگست کو اسرائیلی سرزمین سے اڑان بھرنے والا طیارہ یروشلم سے ابوظہبی پہنچا تھا۔ دونوں ممالک میں تعلقات کی بحالی کے بعد جہاں مسلم دنیا نے متحدہ عرب امارات پر سخت تنقید کی، وہیں یہ خبریں بھی سامنے آئیں کہ ممکنہ طور پر دوسرے عرب ممالک بھی اسرائیل کو جلد تسلیم کرلیں گے۔متحدہ عرب امارات اور اسرائیل میں تعلقات کی بحالی کے باوجود اگرچہ تاحال دونوں ممالک کے درمیان فضائی سفر شروع نہیں ہوا اور نہ ہی تاحال دونوں ممالک کے شہری سیاحت کے غرض سے ایک دوسرے کے ملک جا سکتے ہیں۔تاہم امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ جلد ہی دونوں ممالک فضائی سفر سمیت سیاحتی تعلقات بھی بحال کردیں گے، جس کے بعد کوئی بھی اسرائیلی شہری متحدہ عرب امارات آ سکے گا اور کوئی بھی اماراتی شہری اسرائیل جا سکے گا۔لیکن دونوں ممالک میں تاحال سیاحتی تعلقات بحال نہ ہوپانے کے باوجود پہلی بار ایک اسرائیلی ماڈل متحدہ عرب امارات پہنچیں اور وہاں انہوں نے اماراتی نژاد روسی ماڈل کے ساتھ فوٹوشوٹ بھی کروایا۔خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق خواتین کے زیر جامہ بنانے والے اسرائیلی برانڈ (فکس) کی تشہیر کے لیے اسرائیلی ماڈل مے ٹیگر فوٹو شوٹ کے لیے دبئی پہنچیں۔رپورٹ کے مطابق مے ٹیگر نے متحدہ عرب امارات کی رہائشی روسی نژاد ماڈل انستاسیا کے ساتھ مل کر دبئی کے صحرا میں خواتین کےلباس کا فوٹو شوٹ کروایا۔اسرائیلی ماڈل براہ راست اسرائیل کے پاسپورٹ سے نہیں آئی تھیں بلکہ یورپ کے کسی دوسرے ملک کے پاسپورٹ کے تحت یورپ کے ذریعے ہی متحدہ عرب امارات پہنچی تھیں۔اسرائیلی ماڈل نے متحدہ عرب امارات کی ماڈل کے ساتھ دبئی کے صحرا میں کرائے گئے فوٹوشوٹ کے دوران اپنے ملک کا جھنڈا بھی یو اماراتی سرزمین پر لہرایا۔دونوں ماڈلز کی وائرل ہونے والی تصاویر میں دونوں کو جسم پر اپنے اپنے ملک کا قومی پرچم پہنے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔پہلی اسرائیلی ماڈل کیجانب سے متحدہ عرب امارات میں اسرائیلی برانڈ کی تشہیر کیے جانے کے بعد خیال کیا جا رہا ہےکہ دونوں ممالک کے دوران جلد ہی ثقافتی تعلقات بھی بحال ہوجائیں گے۔اسرائیلی ماڈل کی عرب ملک میں تشہیر کے بعد اسرائیلی فلم و ڈراما سازوں نے امید ظاہر کی ہے کہ دونوںممالک کے درمیان ثقافتی تعلقات مزید بہتر ہوں گے اور اسرائیلی شوبز پروڈکشن ہاؤس دبئی جاکر فلمیں اور ڈرامیں بنا سکیں گے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.