حاملہ بیوی کے ساتھ ہمبستری جائز ہے یا نہیں ۔۔۔۔؟؟اہم شرعی مسئلہ

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات مذہب ہے۔ اسلام نے ہر چیز سے ہمیں آگاہ کیا ہے کہ کیا چیز ہماری لیے حرام ہے کیا چیز ہمارے لئے جائز ہے اور کس چیز کی اجازت ہے۔ لیکن مسئلہ صرف یہ ہے کہ ہم کسی بھی مسئلہ کے بارے میں پوچھتے نہیں۔ اور ہماری تھوڑی سی نام سے ناسمجھی کی وجہ سے ہم گناہ کر دیتے ہیں۔ جس طرح ہم صحت کے معاملے میں ڈاکٹر سے مشورہ کرتے ہیں تاکہ ہماری صحت خراب نہ ہو۔ اسی طرح ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی ایمان کو بھی سلامت رکھنے کے لئے اپنے علماء کے ساتھ ہر چیز میں رابطہ رکھے تاکہ ہماری ایمان کمزور نہ ہو اور ہم غلطیاں نہ کر بیٹھے۔

>

جب تک کہ بیوی اجازت دے اور حمل کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ نہ ہو۔ شرعاً حاملہ بیوی سے جماع کی ممانعت نہیں ہے۔ حاملہ بیوی سے تعلق قائم کرنے کے لیے طبّی طور پر کوئی بھی مناسب اور محفوظ طریقہ اپنایا جا سکتا ہے، اس ضمن میں ممانعت نہیں مگر شرعِ متین نے حیض و نفاس کی حالت میں جماع کو ناجائز ٹھہرایا ہے۔بچوں کی پیدائش میں وقفے یا چند بچوں کے بعد عورت کی صحت کے پیش نظر مستقل نل بندی کروانا شرعاً جائز ہے۔حاملہ بیوی سے تعلق قائم کرنے کے عمل میں کوئی ممانعت نہیں ہے یہاں ایسا کرتے ہو ئے انتہائی احتیاط برتی جائے۔ حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ،ترجمہ” تم میں سے ہر ایک اپنی ماں کے پیٹ میں چالیس دن گزارتا ہے (نطفہ) پھر اسی قدر علقہ۔ پھر اسی قدر مضغہ پھر اللہ فرشتہ بھیجتا ہے اور چار چیزوں کا حکم ہوتا ہے۔ رزق، عمر، نیک بخت یا بدبخت“۔ ضبط تولید میں اسلام کا نظریہ ہے کہ آپ واقعی ضروریات مجبوری کے پیش نظر ضبط ولادت کی تدابیر اختیار کر سکتے ہیں۔مگر مغرب کی بے لگام تہذیب کے پیش نظر شاید یہ امور نہیں۔وہ اس کو دوسرے زاوئیے سے دیکھتے ہیں۔ مثلا معاشی مسائل۔ معاشرتی ذمہ داریوں سے بچنا ۔ ظاہر ہے کہ یہ سوچ اسلامی شریعت اور مزاج کی و ¿عین نقیض ہے۔ وہ کہتے ہیں ا?بادی بڑھنے سے لوگ بھوکے مریں گے۔ معاشرتی واقتصادی مسائل پیدا ہوں گے جن پر قابو پانا ناممکن ہو گا۔ جس کی کچھ جھلک آج دیکھی جا سکتی ہے۔ امید ہے کہ آپ کو ہماری یہ تحریر پسند آئی ہوگی۔ اور ہم آپ سے گزارش کرتے ہیں کہ ہماری پیج فالو کریں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.