جس گھر کے دروازے رشتہ داروں بند

یہ رواج عام ہو گیا ہے کہ ہر بات کی نسبت نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف کر کے ایس ایم ایس، فیس بک، واٹس ایپ اور دوسرے ذرائع کی مدد سے نشر کرنا شروع کر دی جاتی ہے

>

جبکہ وہ نسبت نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف جھوٹی ہوتی ہے۔ مسلم شریف کے حوالہ سے حدیث پیش کی جارہی ہے کہ جس گھر کے دروازے رشتہ داروں بند رہیں، جس گھر میں اذان کے وقت خاموشی نہ ہو، جس گھر یا جگہ پر مکڑی کے جالے لگے ہوں‘جس گھر میں صبح کی نماز نہ پڑھی جاتی ہو، وہاں رزق کی تنگی اور بے برکتی کو کوئی نہیں روک سکتا،

جعلی روایت کی ایک اور مثال ﺣﺪﯾﺚ ﻧﺒﻮﯼ ﺟﺲ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﺭﺷﺘﮧ ﺩﺍﺭﻭﮞ ﮐﮯ لئے ﺑﻨﺪ ﺭﮨﯿﮟ، ﺍﻭﺭﺟﺲ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺭﺍﺕ ﺩﯾﺮ ﺗﮏ ﺟﺎﮔﻨﮯ ﺍﻭﺭﺻﺒﺢ ﺩﯾﺮ ﺳﮯ ﺍﭨﮭﻨﮯ ﮐﺎ ﺭﻭﺍﺝ ﮨﻮ ﺟﺎﮰ ﺗﻮ ﻭﮨﺎﮞ ﺭﺯﻕ ﮐﯽ ﺗﻨﮕﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﺑﺮﮐﺘﯽ ﮐﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﻭﮎ ﺳﮑﺘﺎ.(ﺻﺤﯿﺢ ﻣﺴﻠﻢ6574)

جبکہ یہ روایت صحیح مسلم میں قطعا نہیں ہے نہ ہی حدیث کی کسی اور کتاب میں بسند صحیح یہ روایت موجود ہے۔ بلکہ بہت تلاش کے باوجود یہ روایت ابھی تک علماء اسلام کی لکھی گئی کسی کتاب میں نہیں ملی، نہ ہی یہ روایت مسلم شریف میں ہے بلکہ کسی بھی حدیث کی کتاب میں نہیں‌ ہے، البتہ مضمون سے ملتی جلتی درج ذیل حدیث ثابت ہے

.1۔۔15224 حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو وَأَبُو سَعِيدٍ قَالَا حَدَّثَنَا زَائِدَةُ قَالَ حَدَّثَنَا السَّائِبُ بْنُ حُبَيْشٍ الكَلَاعِيُّ عَنْ أَبِي الشَّمَّاخِ الْأَزْدِيِّ عَنِ ابْنِ عَمٍّ لَهُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى مُعَاوِيَةَ فَدَخَلَ عَلَيْهِ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ وَلِيَ أَمْرًا مِنْ أَمْرِ النَّاسِ ثُمَّ أَغْلَقَ بَابَهُ دُونَ الْمِسْكِينِ وَالْمَظْلُومِ أَوْ ذِي الْحَاجَةِ أَغْلَقَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى دُونَهُ أَبْوَابَ رَحْمَتِهِ عِنْدَ حَاجَتِهِ وَفَقْرِهِ أَفْقَرُ مَا يَكُونُ إِلَيْهَا
مسند المكيين

۔2۔۔۔ – من وَلِي من أمرِ المسلمين ثمَّ أغلق بابَه دون المسكينِ والمظلومِ وذوي الحاجةِ أغلق اللهُ تبارك وتعالَى أبوابَ رحمتِه دون حاجتِه وفقرُه أفقرُ ما يكونُ إليها

الراوي:ابن عم أبي السمح الأزديالمحدث:المنذري – المصدر: الترغيب والترهيب – الصفحة أو الرقم: 3/192خلاصة حكم المحدث: إسناد أحمد حسن۔

اگر چہ بات اچھی ہی کیوں نہ لیکن اگر نبی صلی اللہ علیہ نے وہ نہیں کہی اور اس کو نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف منسوب کیا جائے تو یہ اپنی آخرت تباہ کرنے کے مترادف ہے

جیسا کی نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا«مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ» (جو شخص مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولے وہ اپنا ٹھکانا جھنم میں بنا لے) (یہ روایت متواتر ہے اور کئی صحابہ مثلا ابوھریرۃ ، علی بن ابی طالب ، مغیرۃ بن شعبۃ ، سمرۃ بن جندب ،عبداللہ بن عمرو ، انس بن مالک زبير بن العوام نے بیان کی ہے صحیح بخاری : 106-107-1291-3461 صحیح مسلم : 1-2-3-4-5-6 ملاحظہ کریں)

اگرچہ مندرجہ بالا ذرائع کے ذریعے سے دین کی تبلیغ ہو رہی ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ دشمنان اسلام مختلف قسم کی عبارات کو لکھ کر اس کا انتساب قرآن یا حدیث کی طرف کر دیتے ہیں جبکہ وہ بلکل جھوٹ ہوتی ہے ، اس لئے ہر بات جو کسی بھی طرف سے آئے اس کو آگے ارسال کرنے سے پہلے خود دیکھ لیں یا کسی علم والے سے دریافت لر لیں کہ کیا یہ بات درست ہے یا نہیں ،

اور ایک مسلمان کا یہ طریقہ نہیں کہ ہر سنی سنائی بات کو بغیر تحقیق کے آگے پھنچا دے ،اور خاص طور پر جب معاملہ قرآن و حدیث کا ہو جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا،«كَفَى بِالْمَرْءِ كَذِبًا أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ» (آدمی کے جھوٹے ہونے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ ہر سنی سنائی بات کو آگے بیان کرے) (صحیح مسلم 7عن حفص بن عاصم)

امام ابن حبان یہ روایت نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں (اس حدیث میں توبیخ ہے ہر شخص کے لئے اس بات پر کہ وہ ہر سنی سنائی بات کو آگے بیان کر دے اس کی صحت کا یقینی علم حاصل کرنے سے پہلے) کتاب المجروھین ؛ ۱۷

اس لئے کسی بھی بات کو جس کی نسبت قرآن یا حدیث کی طرف ہو تو اس کو آگے ارسال کرنے سے پہلے یقین کر لیں کہ یہ صحیح ہے.

Sharing is caring!

Comments are closed.