جب تک کُتا نہیں نکلے گا

اللہ اکبر ۔۔۔ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﮐﺴﯽ ﮔﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﮐﺘﺎ ﮐﻨﻮﯾﮟ ﻣﯿﮟ ﮔﺮ ﮐﺮ ﻣﺮ ﮔﯿﺎ .. ﭼﻮﻧﮑﮧ ﮔﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﻭﺍﺣﺪ ﮐﻨﻮﺍﮞ ﺗﮭﺎ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﻟﻮﮒ ﺑﮭﺎﮔﮯ ﺑﮭﺎﮔﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻋﻼﻗﮯ ﮐﮯ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﮐﻨﻮﺍﮞ ﭘﺎﮎ ﮐﯿﺴﮯ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ .. ؟ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ۔

” ﺁﭖ ﻟﻮﮒ ﮐﻨﻮﺋﯿﮟ ﺳﮯ ﭼﺎﻟﯿﺲ ﺑﺎﻟﭩﯿﺎﮞ ﻧﮑﺎﻝ ﮐﺮ ﭘﮭﯿﻨﮏ ﺩﯾﮟ۔ﮐﻨﻮﺍﮞ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ “..ﺍﯾﮏ ﺩﻭ ﺩﻥ ﺑﻌﺪ ﭘﮭﺮ ﮔﺎﺅﮞ ﻭﺍﻟﮯ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﭘﮩﻨﭽﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻟﮯ .. ” ﺣﻀﺮﺕ !ﭘﺎﻧﯽ ﺗﻮ ﻭﯾﺴﮯ ﮐﺎ ﻭﯾﺴﺎ ﮨﯽ ﮨﮯ .. ﺁﭖ ﮐﮯ ﺣﮑﻢﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﭼﺎﻟﯿﺲﺑﺎﻟﭩﯿﺎﮞ ﭘﺎﻧﯽ ﻧﮑﺎﻝ ﮐﺮ ﭘﮭﯿﻨﮏ ﺩﯼ ﺗﮭﯿﮟ “..ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺳﻦ ﮐﺮ ﭘﻮﭼﮭﺎ .. ” ﮐﯿﺎ ﺁﭖ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﺘﮯ ﮐﻮ ﻧﮑﺎﻝ ﮐﺮ ﺑﺎﻟﭩﯿﺎﮞ ﭘﮭﯿﻨﮑﯽ ﺗﮭﯿﮟ .. ؟ “ﺍﺱ ﭘﺮ ﺳﺐ ﺑﻮﻟﮯ” ﺣﻀﺮﺕ ! ﺁﭖ ﻧﮯ ﺑﺎﻟﭩﯿﺎﮞ ﻧﮑﺎﻟﻨﮯ ﮐﺎ ﮐﮩﺎ ﺗﮭﺎ ‘ ﮐﺘﺎ ﻧﮑﺎﻟﻨﮯ ﮐﺎ ﻧﮩﯿﮟ “..مولوی صاحب نے کہا:جب تک کُتا نہیں نکلے گا پانی نہیں صاف ہوگا.ﮨﻢ ﺑﮭﯽ ﮔﺎﺅﮞ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ عبادت ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ..ﺑﻐﺾ ‘ ﻧﻔﺮﺕ ‘ ﺗﻌﺼﺐ ﺍﻭﺭ ﻻﻟﭻ ﮐﮯ ﮐﺘﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻨﮯ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ کچھ ﻧﻤﺎﺯﯾﮟ ‘ ﺗﺴﺒﯿﺤﺎﺕ ﭘﮍﮪ ﮐﺮ ﺳﻤﺠﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺩﻝ ﭘﺎﮎ ﮨﻮﮔﯿﺎ۔۔۔۔یہ بھی پڑھیں۔۔۔ایک بادشاہ نے اعلان کیا کہ کہ جو شخص جھوٹ بولتے ہوئے پکڑا گیا اس کو پانچ دینار جرمانہ ہوگا، لوگ ایک دوسرے کے سامنے بھی ڈرنے لگے کہ اگر جھوٹ بولتے ہوئے پکڑے گئے تو جرمانہ نہ ہو جائے، ادھر بادشاہ اور وزیر بھیس بدل کر شہر میں گھومنے لگے، جب تھک گئے تو آرام کرنے کی غرض سے ایک تاجر کے پاس ٹھہرے، اس نے دونوں کو چائے پلائی، بادشاہ نے تاجر سے پوچھا۔” تمھاری عمر کتنی ہے؟”۔تاجر نے کہا “20 سال۔ “۔”

تمھارے پاس دولت کتنی ہے؟ “تا جرنے کہا۔۔۔“70 ہزار دینار”۔بادشاہ نے پوچھا: “تمھارے بچے کتنے ہیں؟ “۔تاجر نے جواب دیا: “ایک”۔ واپس آکر انھوں نے سرکاری دفتر میں تاجر کے کوائف اور جائیداد کی پڑتال کی تو اس کے بیان سے مختلف تھی، بادشاہ نے تاجر کو دربار میں طلب کیا اور وہی تین سوالات دُھرائے۔ تاجر نے وہی جوابات دیے۔ بادشاہ نے وزیر سے کہا:۔“اس پر پندرہ دینار جرمانہ عائد کر دو اور سرکاری خزانے میں جمع کرادو، کیونکہ اس نے تین جھوٹ بولے ہیں، سرکاری کاغذات میں اس کی عمر 35 سال ہے، اس کے پاس 70 ہزار دینار سے زیادہ رقم ہے، اور اس کے پانچ لڑکے ہیں۔”تاجر نے کہا: زندگی کے 20 سال ہی نیکی اور ایمان داری سے گزرے ہیں، اسی کو میں اپنی عمر سمجھتا ہوں اور زندگی میں 70 ہزار دینار میں نے ایک مسجد کی تعمیر میں خرچ کیے ہیں، اس کو اپنی دولت سمجھتا ہوں اور چار بچے نالائق اور بد اخلاق ہیں، ایک بچہ اچھا ہے، اسی کو میں اپنا بچہ سمجھتا ہوں۔ “۔یہ سُن کر بادشاہ نے جرمانے کا حکم واپس لے لیا اور تاجر سے کہا:۔ “ہم تمھارے جواب سے خوش ہوئے ہیں، وقت وہی شمار کرنے کے لائق ہے، جو نیک کاموں میں گزر جائے، دولت وہی قابلِ اعتبار ہے جو راہِ خدا میں خرچ ہو اور اولاد وہی ہے جس کی عادتیں نیک ہوں۔۔۔۔ “۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *