جب ایک نوجوان لڑکی کو مسجد میں غیر شرعی حالت میں دیکھا تو اسے

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) ایک نواب کی خوبصورت لڑکی فسادات سے بچنے کے لیے مسجد میں پناہ لینے کے لیے اندر گئی۔ مسجد میں پہلے سے ایک جوان طالب علم موجود تھا، وہ طالب علم درس و تدریس میں مشغول تھا۔ جب ایک نوجوان لڑکی کو مسجد میں غیر شرعی حالت میں دیکھا، تو اسے مسجد سے نکلنے کو کہا۔

>

جس سے لڑکی نےانکار کیا۔ طالب علم نے غصہ، منت و سماجت ہر حربہ آزمایا مگر لڑکی نے اللہ کا واسطہ دے کر کہا کہ باہر اس کی عزت کو خطرہ ہے اور اسے رات یہیں گزارنے دیا جائے۔ اس پر طالب علم نے کہا کہ ایک شرط پر تم مسجد میں ٹھہر سکتی ہو کہ ایک کونے میں پوری رات خاموش بیٹھی رہو گی اور کسی صورت میرے ساتھ بات نہیں کرو گی۔ ادھر نوجوان طالب علم ہر تھوڑی دیر بعد اپنی ایک انگلی آگ پر رکھتا اور پھر وہ سسکیاں لے کر ہٹاتا۔ لڑکی رات بہر یہ تماشا دیکھتی رہی مگر کچھ کہنے سے قاصر تھی۔ خدا خدا کرکے صبح ہوئی لڑکا اذان دینے اٹھا اور لڑکی سے کہا کہ وہ اب مسجد سے نکلے کیونکہ نمازی آنے والے ہوں گے۔ تاکہ کوئی بدگمانی نہ کرے لڑکی نے كہا ٹھیک مگر مجھے ایک بات بتا دیں کہ رات بھر آپ وقفے وقفے سے اپنی انگلی آگ پر کیوں رکھتے تھے۔ طالب علم نے جواب دیا کہ رات میں نے نفس اور شیطان اور اللہ کے احکامات کے مابین شش و پنج میں گزاری۔ جب کبھی شیطان کا غلبہ ہوتا تو میری خواہش ابھرتی کہ اکیلی لڑکی ہے اپنی خواہش کی تکمیل کرلوں۔

مگر جب دوزخ کا عذاب سامنے پاتا تو اپنی انگلی کو آگ پر رکھ کر یہ آزمائش کرتا کہ کیا اس آگ کو میں سہہ پاؤں گا- مگر جلد ہی احساس ہوجاتا کہ ایک چھوٹی انگلی یہ تھوڑی سی آگ برداشت نہیں کرسکتی تو جہنم کی آگ میرے پورے جسم کو کیسے بھسم کرے گی۔ وقت گزرتا گیا نواب زادی کیلیے امیر سے امیر شخصیات کے رشتے آنے لگے مگر وہ ہر رشتہ ٹھکراتی رہی. لڑکی کے والدین بہت پریشان تھے کہ آخر معاملہ کیا ہے۔ بالاخر لڑکی زبان پر مدعا لے آئی کہ اس کی شادی صرف مذکورہ طالب علم سے کی جائے ورنہ وہ کبھی شادی نہیں کرے گی۔ نتیجہ: ایک رات نفس کو قابو رکھ کر وہ غریب طالب علم محل میں چلا گیا اگر ہم پوری زندگی اللہ اور رسول کے طور طریقوں پر گزاریں تو خالق کائنات ہمیں جنت کے محلات میں کیا مقام دیں گے۔۔۔۔یہ بھی پڑھیں۔۔۔میں دعوے سے کہتا ہوں رات سونے سے پہلے اگر بیوی کی پیشانی پر بوسہ دیدو تو یقین جانیں وہ آپ کی محبت میں مسکراتے ہوئے پرسکون نیند سوئے گی، بیوی کی پیشانی پر بوسے سے عقیدت پیدا ہوتی ہے، بیوی اندر تک خود میں سکون اور اطمینان محسوس کرتی ہے، خود کو بے خوف محسوس کرتی ہے۔

خود کو محفوظ ہاتھوں میں محسوس کرتی ہے، خود کو امیر ترین عورت محسوس کرتی ہے۔ بیوی کتنی ہی غصہ میں ہو، کیسا ہی جھگڑا ہو ایک بار پیشانی پر بوسہ بیوی کو اندر تک جھنجھوڑ دیتا ہے اور ایسے موقعوں پر چند بیویاں تو شوہر کے اس عمل کو دیکھ کر خوشی سے رو بھی پڑتی ہیں۔ اسی طرح شہر سے باہر جا رہے ہو تو جاتے وقت اس کو سینے سے لگاؤ اور پیشانی پر بوسہ دو، اس عمل سے آپ جتنا وقت بیوی سے دور رہو گے بیوی گھر میں سکون سے رہے گی، مسکراتی پھرے گی، لہلہاتی پھرے گی، چہچہاتی پھرے گی۔ اسی طرح خود پر لازم کر لو کہ کھانا بیوی کے ساتھ کھانا ہے، یا کم از کم دن میں ایک وقت کا کھانا بیوی کے ساتھ کھانا ہے، اگر یہ عمل شروع کریں گے تو یقین جانیں ایک وقت ایسا آئے گا کہ اگر آپ کہیں مصروف ہیں تو آپ کی بیوی بھوکی سو جائے گی لیکن آپ کے بغیر ایک نوالہ پیٹ میں نہیں ڈالے گی اور یہ میاں بیوی کے درمیان محبت کی ایک خوبصورت دلیل ہے۔ کھانا کھاتے وقت ہاتھ سے دو نوالے بیوی کو کھلادیں، یہ عمل شوہر اور بیوی کے درمیان اُنس پیدا کرتا ہے، اگر بیوی کسی بات پر ناراض ہے تو ناراضگی کو دور کرنے میں بے حد مددگار ثابت ہوتا ہے۔

یہ عمل میاں اور بیوی کے درمیان محبت کو تقویت فراہم کرتا ہے۔ کھانا کھاتے وقت بیوی کے بنائے ہوئے کھانے کی دو الفاظ میں تعریف کریں، یہ بیوی کا حق ہے، اس سے بیوی کے اندر حوصلہ پیدا ہوتا ہے۔ یہ دو چار باتیں تھیں جن پر عمل کرکے زندگی کو بہت زیادہ خوبصورت بنایا جا سکتا ہے، لوگ کہتے ہیں آپ باتیں تو خوبصورت لکھتے ہیں لیکن عملی طور پر مشکل ہے، ارے جناب کیسی مشکل ان اعمال کو کرنے میں؟ نہ ہمارے پیسے لگتے ہیں، نہ ہمارا وقت ضائع ہوتا ہے اور نہ ہی کسی قسم کی کوئی مشکل پیش آتی ہے، جناب زندگی کو خوبصورت بنانا پڑتا ہے، خوبصورت زندگی بازار میں نہیں ملتی، خود بنانا پڑتا ہے، بہت سے لوگ ہیں جو انا کے اندر یہ اعمال نہیں کرتے، ایک جگہ پڑھ رہا تھا رسول کریمﷺ پانی پینے کے لیے پیالے پر وہاں ہونٹ لگاتے تھے جہاں سے ان کی زوجہ رضی اللہ عنھا نے ہونٹ لگا کر پانی پیا ہو۔ جناب اس دنیا کی تمام تر عزتوں کو اکٹھا کرلیا جائے تو رسولِ کریمؐ کی نعلین مبارک میں لگی خاک مبارک کے ایک ذرے کی برابری نہیں کر سکتی، تو ذرا دیکھیں دونوں جہانوں کے سردار کا اپنی بیویوں کے ساتھ کیسا معاملہ تھا، ہم پڑھیں گے تو ہمیں معلوم ہوگا ناں، ہمیں ہمارے دفتری کام، دوستوں اور موبائل سے فرصت نہیں ملتی، لہذا اپنی انا کو چھوڑ کر ان اعمالوں کو زندگی میں لانا بہت ضروری ہے تاکہ آپ کی ازدواجی زندگی ایک خوشگوار ازدواجی زندگی بن جائے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.