تم روز میرے گھر ہی کیوں آتے ہو؟

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) ایک خاتون ایک فقیر کو روزانہ کھانا کھلاتے تنگ آ گئیں تو ایک روز چڑ کر بولیں۔ ”آخر تم کھانا کھانے میرے گھر ہی کیوں آ جاتے ہو؟ اس گلی میں اور بھی تو اتنے گھر ہیں مگر میں نے تمہیں کسی دوسرے دروازے پر کھانا مانگتے نہیں دیکھا۔“”میں ڈاکٹر کے حکم کی وجہ سے مجبور ہوں بیگم صاحبہ۔

>

فقیر نے سر جھکا کر کہا۔”کیا تمہیں ڈاکٹر نے روزانہ میرے گھر سے کھانا کھانے کا حکم دیا ہے؟“ خاتون نے حیرت سے آنکھیں پھیلاتے ہوئے پوچھا۔”ڈاکٹر صاحب نے یہ بات اس طرح تو نہیں کہی تھی۔ لیکن ان کا مطلب تھا بیگم صاحبہ!“ فقیر نے وضاحت کرتے ہوئے کہا۔” انہوں نے کہا تھا کہ جو خوراک تمہارے معدے کو موافق آ جائے زندگی بھر وہی کھاتے رہنا۔۔۔۔ یہ بھی پڑھیں۔۔۔ شادی ہر انسان کی ایک بڑی خواہش ہوتی ہے خواہ وہ مرد ہو یا عورت، اس کی زندگی میں شادی ایک بہت اہم سنگ میل ہوتا ہے تاہم شادی کے بعد کے معاملات کا کسی کو کوئی علم نہیں ہوتا اکثر اوقات بچوں کی پیدائش اور زیادہ یا کم بچے پیدا کرنے پر لڑائی جھگڑے شروع ہو جاتے ہیں تاہم مصر میں ایک خاتون نے بڑی فراخدلی کا مظاہرہ کیا ہے۔ مصر میں ایک باحوصلہ خااتون نے خاوند کی دوسری شادی پرروٹھ کر میکے جانے کی بجائے ا س کی شادری میں بھرپور شرکت کی۔خاتون کی اپنے خاوند اور نئی سوتن کے ساتھ تصاویر سوشل میڈیا پروائرل ہوگئیں۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق ان تصاویر کی تشہیر کے ساتھ ہی مصریوں میں آن لائن مردوں کی ایک سے زیادہ شادیوں کے موضوع پر نئی بحث بھی چھڑ گئی ہے ۔

انسانی حقوق کے کارکنان اور خواتین کے گروپوں نے مرد کی دوسری شادی کو ظالمانہ فعل قرار دیا اور کہا کہ اس سے اسلام میں دوسری شادی کے تصور سے انحراف کیا گیا ہے کیونکہ اسلام بیواؤں اور یتیموں کے تحفظ کے لیے ان سے دوسری شادی کی اجازت دیتا ہے اور اس کے لیے بنیادی شرط یہ عائد کرتا ہے کہ مرد اپنی بیویوں کے درمیان انصاف کرے گااور کسی ایک کو دوسری پر ترجیح نہیں دے گا اور ان سے مساوی سلوک کرے گا۔دوسری شادی کرنے والے اس مصری دْلھا کا نام’’ معتز ہلال‘‘ ہے جس نے ایک بیان جاری کیا اور اپنی دوسری شادی کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے خاندان میں توسیع اور مزید بچے چاہتے ہیں۔انھوں نے اپنی دوسری دْلھن کے ساتھ تصاویر کو تنقید کا نشانہ بنانے والوں پر کڑی نکتہ چینی کی ہے۔انھوں نے اس بات پر بھی حیرت کا اظہار کیا ہے کہ یہ تصاویر سوشل میڈیا پر کیسے وائرل ہوگئی ہیں؟۔۔۔ یہ بھی پڑھیں۔۔۔ پاکستانی فلم انڈسٹری کا ایک جانا مانا نام بابرہ شریف ہیں، لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ ان کا تعلق کس خاندان سے ہے اور یہ فلم انڈسٹری کا حصہ کیسے بنیں؟ تفصیلات کے مطابق زندہ دلانے لاہور میں ایک شخص رہائش پذیر تھے جن کا نام شریف گھیو یعنی شریف گھی والا تھا۔

ان کا دیسی گھی کا تھوک کا کاروبار تھا۔ ان کی تین بیٹیاں تھیں، بڑی بیٹی کا نام فردوس شریف، منجھلی کا نام فاخرہ شریف جبکہ سب سے چھوٹی اور سب سے خوبصورت بچی کا نام بابرہ شریف تھا ایک بڑے ادارے کے مالک نے جب بابرہ کو دیکھا تو انہوں نے جیٹ نامی ایک واشنگ پاؤڈر کی مشہوری کے لیے ان کو منتخب کیا کہ وہ اس میں ماڈلنگ کریں کیونکہ جیٹ کو اس وقت ایک بڑے برانڈ کے مقابلے میں متعارف کروایا جا رہا تھا اسی لیے ان کے مالک چاہتے تھے کہ اس میں کسی قسم کی کوئی کم نہ رہے۔ یہ اشتہار بہت ہٹ ہوا، اس اشتہار میں دھوم مچانے کے بعد بابرہ شریف کو پاکستان فلم انڈسٹری کے ایک ہدایتکار شباب کیرانوی نے اپنی فلم میرا نام ہے محبت میں بطور ہیروئن کاسٹ کر لیا۔ اس فلم کے ہیرو غلام محی الدین تھے اور ان کی بھی یہ پہلی فلم تھی۔اس فلم کے ہٹ ہونے کے بعد بابرہ شریف نے اپنی کامیابی کے جھنڈے گاڑنا شروع کردیے۔ یاد رہے بابرہ شریف کی بہن فاخرہ شریف کو بھی شباب کیرانوی نے ایک فلم “انسان اور آدمی” میں کاسٹ کیا تھا مگر فاخرہ پردہ سکرین پر کامیاب نہ ہو سکیں اور ایک ہی فلم میں آنے کے بعد واپس اپنے گھر جا بیٹھیں۔ ان کا گھر اس وقت لاہور کے پوش علاقے گلبرگ میں تھا۔ فلمی ہیروئنوں کو اپنی متعدد غلطیوں یا قسمت کی وجہ سے زوال بھی آتا ہے لیکن بابرہ شریف کے ساتھ ایسا کچھ نہیں ہوا۔ انہوں نے مشہور اینکر کامران شاہد کے والد فلم سٹار شاہد سے شادی کر لی۔ تاہم آج بھی اداکارہ بابرہ شریف اپنے ایم ایم عالم روڈ گلبرگ والے گھر میں گزرے شاندار وقتوں کی یاد میں کھوئی رہتی ہیں اور پالتو جانوروں اور پرندوں کے ساتھ گزرے وقت کو یاد کرتی ہیں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.