ترکی کے لوگ اپنی اولاد کو شیر کی بجائے بھیڑیے سے کیوں تشبیہ دیتے ہیں؟ جانئے حیران کُن وجہ

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) بھیڑیا واحد جانور ھے جو اپنے والدین کا انتہائی وفادار ھے یہ بڑھاپے میں اپنے والدین کی خدمت کرتا ھے۔ یہ ایک غیرت مند جانور ھے‏” بھیڑیا” واحد ایسا جانور ھے جو اپنی آزادی پر کبھی بھی سمجھوتہ نہیں کرتا اور کسی کا غلام نہیں بنتا جبکہ شیر سمیت ہر جانور کو غلام بنایا جا سکتا ھے۔

>

بھیڑیا کبھی ﻣٌﺮﺩﺍﺭ ﻧﮩﯿﮟ کھاتا اور یہی جنگل ‏کے بادشاہ کا طریقہ ھے اور نہ ہی بھیڑیا محرم مؤنث( والدہ، بہن) پر جھانکتا ھے یعنی باقی جانوروں سے بالکل مختلف بھیڑیا اپنی ماں اور بہن کو بری نگاہ سے دیکھتا تک نہیں۔۔۔ بھیڑیا اپنی شریک حیات کا اتنا وفادار ہوتا ھے کہ اس کے علاؤہ ‏کسی اور مؤنث سے تعلق قائم نہیں کرتا۔ اسی طرح مؤنث( یعنی اس کی شریک حیات) بھیڑیا کے ساتھ اسی طرح وفاداری نبھاتی ھے۔۔۔ بھیڑیا اپنی اولاد کو پہنچانتا ھے کیونکہ ان کے ماں و باپ ایک ہی ہوتے ہیں۔۔۔ جوڑے میں سے اگر کوئی ایک مرجائے تو دوسرا مرنے والی جگہ ‏پر کم از کم تین ماہ کھڑا بطور ماتم افسوس کرتا ھے بھیڑئیے کو عربی زبان میں “ابن البار” کہا جاتا ہے، یعنی”نیک بیٹا” کیونکہ جب اس کے والدین بوڑھے ہو جاتے ہیں تو یہ ان کے لئے شکار کرتا ھے اور ان کا پورا خیال رکھتا ھے۔ ‏اس لئے ترک اپنی اولاد کو شیر کی بجائے بھیڑئیے سے تشبیہ دیتے ہیں۔ انکا ماننا ھے کہ “شیر جیسا خونخوار بننے سے بہتر ھے بھیڑیے جیسا نسلی ہونا” اسلئے ترک اپنی اولاد کو شیر کی بجائے بھیڑیے سے تشبیہ دیتے ھیں ‏ ۔اگر پوسٹ پسند آئے تو لائیک کریں اور آگے شیئر کریں شکریہ۔

Sharing is caring!

Comments are closed.