بہلول دانا رحمۃ اللہ علیہ نے ان بچوں کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا پریشان نہ ہوں

شہروں کے شہربغداد میں زندگی پُر رونق طریقے سے رواں دواں تھی، سب لوگ اپنے کاروبار زندگی میں مصروف تھے، بازاروں میں خرید و فروختعروج پرتھی۔ اسی دوران بہلول دانہ بازار سے گزر رہے تھے کے ان کی نظر دو یتیم بچوں پر پڑی۔ بچہ رو رہے تھے بہلول دانا نے ان کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے پوچھا کیوں رو رہے ہو بچوں، دونوں بچوں میں سے ایک بچے نے جواب دیتے ہوئے کہا۔ کہ ہمارے والد حج کو جا رہے تھے۔

>

حج پر جانے سے پہلے انہوں نے ایک ہزار اشرفیہ امانت کے طور پر قاضی صاحب کو دی تھی، اور قاضی صاحب سے کہا تھا کہ زندگی اور موت کا کوئی بھروسہ نہیں اگر میں حج سے واپس نہ آیا تو ان میں سے آپ کا جو دل چاہے میرے بچوں کو دے دینا اور باقئ کا اشرفیہ اپنے پاس رکھنا، مگر افسوس کہ قضاء میرے والد کی طاق میں تھی اور ان کاراستے میں انتقال ہوگیا۔ آپ جب ہم نے اپنی امانت قاضی صاحب سے مانگا تو انہوں نے ہمیں صرف سو اشرفیہ دیتی ہوئے کہا کے آپ کی والد صاحب نے میرے ساتھ قول کی تھی۔ کہ ان اشرفیوں میں سے آپ کا جو دل چاہے رکھ لینا اور باقی میرے بچوں کو دے دینا۔ اور قاضی صاحب نے ان کا گواہوں ہو کو بھی پیش کیا، جن کے سامنے میرے والد صاحب نے قول کی تھی۔ اب ہمارا کوئی آسرا نہیں ہم سخت پریشانی میں مبتلا ہے۔ بہلول دانا رحمۃ اللہ علیہ نے ان بچوں کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا پریشان نہ ہوں، آپ نے آنسو پوچھ لو چلو میں جا کے قاضی صاحب کے ساتھ بات کرتا ہوں۔ حضرت بہلول قاضی کے پاس پہنچے اور قاضی سے کہا کے قاضی ان یتیم بچوں کا حق انہیں کیوں نہیں دیتا، قاضی نے جواب دیتے ہوئے کہا اچھا اب یہ بچے تمہیں اپنا حمایت بنا کر لے آئے ہے، قاضی نے کہا کے ان گواہوں کے سامنے ان کے والد نے قول کیا تھا۔ کہ آپ ان اشرفیوں میں سے جو دل چاہے میرے بچوں کو دے دینا۔

اب میں ان کو سو اشرفیاں دے رہا ہوں یہ لینے سے انکار کر رہے ہیں، اور خواہ مخواہ شہر بھر میں مجھے بد نام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حضرت بہلول دانا نے کہا کے آپ نے صحیح کہا ان بچوں کے والد کے وصیت کے مطابق آپ کا جو دل چاہتا ہے وہ نوسو اشرفیاں ہیں لہٰذا وہ ان بچوں کو دے دینا۔ مجمع میں موجود لوگوں نے بھی حضرت بہلول دانا رحمۃ اللہ علیہ کی تائید کی۔ قاضی بہلول دانہ کی بات سن کر بہت ناداں ہوا اور قاضی کو وہ اشرفیاں ان یتیم بچوں کو دینا پڑی۔ بہلول دانا کی عقلمندی کے سبب ان یتیم بچوں کو اپنا حق مل گیا۔ دوستو اگر پوسٹ اچھی لگے تو لائک کمنٹ اور شیئر ضرور کرنا۔ تاکہ ہم مطمئن رہے اور آپ کو اسی طرح اسلامی واقعات کی پوسٹیں بناتے رہیں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.