بهیڑیا ترکوں اور منگولوں کا قومی جانور هے۔

بهیڑیا ترکوں اور منگولوں کا قومی جانور هے۔ بهیڑیا ایک خونخوار جانور هے۔ لیکن یه اپنے والدین کا انتہائی وفادار هوتا ھے، یہ بڑھاپے میں اپنے والدین کی خدمت کرتا ھے۔ بهیڑیاں ایک غیرت مند جانور ھے اسلئے ترک اپنی اولاد کو شیر کی بجائے بھیڑیے سے تشبیہ دیتے ھیں۔ بھیڑیا واحد ایسا جانور ھے جو اپنی آزادی پر کبھی بھی سمجھوتہ نہیں کرتا اور کسی کا غلام نہیں بنتا، بلکہ جس دن پکڑا جاتا ہے۔

اس وقت سے خوراک لينا بند کر ديتا ہے اس لیے اس کو کبھى بھى آپ چڑيا گھر يا پھر سرکس ميں نہيں ديکھ پاتے، اس کے مقابلے ميں شیر، چيتا، مگر مچھ اور ھاتھى سمیت ہر جانور کو غلام بنایا جا سکتا ھے۔‏ بھیڑیا کبھی ﻣٌﺮﺩﺍﺭ ﻧﮩﯿﮟ کھاتا، اور نہ ہی بھیڑیا محرم مؤنث( والدہ، بہن) پر جھانکتا ھے، یعنی باقی جانوروں سے بالکل مختلف بھیڑیا اپنی ماں اور بہن کو شہوت کی نگاہ سے دیکھتا تک نہیں۔‏بھیڑیا اپنی شریک حیات کے اتنا وفادار ہوتا ھے کہ اس کے علاوہ کسی اور مؤنث سے تعلق قائم نہیں کرتا، اسی طرح مؤنث( یعنی اس کی شریک حیات) بھیڑیا کے ساتھ اسی طرح وفاداری نبھاتی ھے، بھیڑیا اپنی اولاد کو پہنچانتا ھے کیونکہ ان کے ماں باپ ایک ہی ہوتے ہیں۔ جوڑے میں سے اگر کوئی ایک مرجائے تو دوسرا مرنے والی جگہ پر کم از کم تین ماہ کھڑا بطور ماتم افسوس کرتا ھے۔ ‏بھیڑئیے کو عربی زبان میں ذېب کها جاتا هے۔ لیکن عرب بهیڑیا کو “ابن البار” بهی کہا جاتا ہے، یعنی”نیک بیٹا” کیونکہ جب اس کے والدین بوڑھے ہو جاتے ہیں تو یہ ان کے لئے شکار کرتا ھے اور ان کا پورا خیال رکھتا ھے، اس لئے ترک اپنی اولاد کو شیر کی بجائے بھیڑئیے سے تشبیہ دیتے ہیں۔ انکا کهنا ھے کہ: شیر جیسا خونخوار پکارنے کے بجاے بھیڑیے جیسا نسلی ہونا بهتر هے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *