ایک چھوٹا سا بورڈ ریڑھی پر لگا ہوا تھا اس پر موٹے مارکر سے لکھا ہوا تھا

ایک چھوٹا سا بورڈ ریڑھی پر لگا ہوا تھا۔ اس پر موٹے مارکر سے لکھا ہوا تھا گھر پر کوئی نہیں ہے میری بوڑھی ماں فالج زدہ ہے مجھے انہیں کھانا دینا ہوتا ہے اور حاجت کرانی پڑتی ہیں۔ اگر آپ جلدی میں ہیں تو اپنی مرضی کے فروٹ تول لیں اور پیسے کونے پر ریگزین کی گتے کے نیچے رکھ دیجئے۔ ساتھ ہی ریٹ لکھی ہوئی ہے اگر پیسے نہیں ہیں تو میری طرف سے لے لینا اجازت ہے۔

>

میں نے ادھر ادھر دیکھا اور پاس پڑے ترازو میں دو کلو سیب تولے اور درجن کیلے لے کر ایک شاپر میں ڈال لیے پرائس لسٹ سے قیمت دیکھے پیسے نکالے اور ان کی بتائی ہوئی جگہ پر رکھ دیے۔ فروٹ کا شوپر لے کر اپنے گھر آ گیا شام میں جب وہاں سے گزر ہوا، تو دیکھا ایک آدمی ریڑھی دھکا دے کر جانے والا تھا۔ مجھے دیکھ کر مسکرایا اور بولا صاحب پھل تو ختم ہوگئے۔ نام پوچھا تو بولا خادم حسین پھر ہم سامنے ڈبے پر بیٹھ گئی اور چائے کہنے لگا کہ پچھلے تین سال سے اماں بستر پر ہے کالج بھی ہو گیا ہے میری بال بچے نہیں ہے اور بیوی کا انتقال ہوگیا ہے۔ صرف میں ہوں اور میری اماں کے دیکھ بھال والا کوئی نہیں ہے اس لیے مجھے ہر وقت خیال رکھنا پڑتا ہے۔ ایک دن میں نے اماں کے پاؤں دباتے ہوئے بڑی نرمی سے کہا، امی جی تیری تیمارداری کو تو جی بڑا کرتا ہے۔ پر جیب میں کچھ نہیں ہے اور تو مجھے کمرے سے ہلانے نہیں دیتی۔ کہتی ہے کی تو جاتا ہے تو جی گھبراتا ہے تو ہی بتا تو کیا کروں؟ میں نے کہا کہ ماں کماؤ نگا نہیں تو دوا اور کھانا کہاں سے لاؤں گا اب کیا غیب سے کھانا اترے گا۔ یہ سن کر اماں جھریوں والا چہرہ اٹھایا اور اپنے کمزور ہاتھ کا پیالہ بنایا۔

اور نہ جانے رب العالمین سے کیا بات کی اگر بولیں تو ریڑھی وہی چھوڑ کر آیا کر، تیرا رزق تجھے اس ہی کمرے میں بیٹھ کر ملے گا۔ میں نے کہا کہ امّاں کیا بات کرتی ہو وہاں چھوڑ کر آؤں گا تو چور اچکے سب لوٹ کر لے جائیں گے۔ کہنے لگیں گی تو فجر کو ریڑھی پھلوں بھر کر چھوڑ آجا بس زیادہ کچھ نہ بول شام کو خالی واپس لے آئے گا۔ بھائی سال ہوگی بھائی صبح ریڑھی لگا جاتا ہو اور شام کو لے جاتا ہو لوگ پیسے رکھ جاتے اور پھل لے جاتے ہیں۔ ایک دھیلا اوپر نیچے نہیں ہوتا بلکہ کچھ تو زیادہ رکھ جاتے ہیں اور اکثر تین سو چار سو روپے اوپر منافع ہو جاتا ہے۔ کبھی کوئی اماں کیلئےپھول رکھ جاتا ہے اور کبھی کوئی اور چیز پرسوں ایک بچی پلاؤ رکھ کر گئی نوٹ لے کر گئی۔ کہ اماں کے لئے ہے ایک ڈاکٹر کا گزر ہوا اور اپنے کارڈ پر لکھا کہ ماں کی طبیعت نہ سنبھلی تو ایک فون کرنا گھر سے پک کرلونگا، کیسی حاجی صاحب کا وہاں سے گزر ہوا تو عجوہ کا پیکٹ چھوڑ گئے کوئی شوپنگ کرکے گزرا تو اماں کے لیے سوٹ چھوڑ گئے روزانہ ایسا کچھ نہ کچھ میرے رزق کے کیساتھ موجود ہوتا ہےنہ امں ہلنے دیتی ہے۔ اور نہ اللہ روکنے دیتا ہے۔ بھائی کسی نے ٹھیک کہا ہے کہ ماں باپ کی ہاتھ ایک بار دعا کے لیے ہاتھ اٹھ جائے تو دنیا اور آخرت دونوں سنور جاتے ہیں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.