ایک معنی خیز تحریر ملاحظہ کریں

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) کتنے کم ظرف اور گھٹیا ہیں وہ طعنے جو نواز شریف کے ساتھ اقتدار کی موجیں اڑانے والوں کی طرف سے اپنے ہی ووٹروں، سپورٹروں اور کارکنوں کو دئیے جا رہے ہیں، کریلے گوشت اور کڑھی پکوڑے کھا کے سوجانے کے طعنے ، ٹوئیٹ کر کے اپنا فرض پورا ہوجانا سمجھ لینے کے طعنے۔

نامور کالم نگار نجم ولی خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ ووٹ ڈالنے کے بعد قربانیاں نہ دینے کے طعنے ، نواز شریف کے ہسپتال میں رہتے ہوئے کسی روز بھی سو سے زائد کارکن جمع نہ ہونے کے طعنے ۔ کہتے ہیں کسی گاﺅں سے ایک اوباش عورت اپنے آشنا کے ساتھ بھاگ گئی، کئی دن اور راتیں گزارنے کے بعد جب واپس آئی تو ماں سے کہنے لگی، آٹا مجھے دو، آج میں روٹیاں مائی کے تندور سے میں لگوا کے لاتی ہوں۔ ماں نے روکا، بولی ، وہاں گاﺅں کی سب عورتیں ہوں گی جو تمہیں دھالن ( پنجابی زبان میں گھر سے نکل جانے والی عورت) کہہ کر پکاریں گی۔ وہ اوباش قہقہہ مار کر ہنسی اور بولی، وہ مجھے دھالن کہیں گی تو میں کہوں گی تم دھالن، تمہاری ماںدھالن، تمہاری نانی دھالن۔تو اے پیارے نون لیگی کارکنو! اب بات تم پر آگئی ہے کہ تم نے ہی نواز شریف کا ساتھ نہیں نبھایا ورنہ موصوف نے وہ جمہوری انقلاب برپا کر دینا تھاجو تین مرتبہ وزیراعظم بن کے بھی برپا نہیں کرپائے تھے۔مان لیتے ہیں کہ ان کے پنجاب کے وزیراعلیٰ بننے میں عوام کا کوئی کردا ر نہیں تھا مگراس کے بعد وہ تین مرتبہ وزیراعظم بھی بنے ہیں اور تینوں مرتبہ انتخاب جیت کر ہی بنے ہیں ۔ بصد احترام ! ہر مرتبہ انہوں نے آمر مطلق بننے کے جنون میں اپنی حکومتی کشتی کو ڈبویا ہے تو کیا اس میںبھی عوام اور کارکنوں کا ہی قصور تھا۔

مجھے یہ کہنے میں عار نہیں کہاگر اس مرتبہ مارشل لا نہیں لگا تو اس میں جنرل راحیل شریف کی مہربانی تھی ورنہ میاں صاحب نے اپنی روایتی اناپرستی میں کسرکوئی نہیں چھوڑی تھی۔ میںآج بارہ اکتوبر ننانوے کی شام کو یاد کرتا ہوں تو مجھے نواز شریف کی ہٹ دھرمی کے سوا کچھ نظر نہیں آتا جب فوج ایک نااہل اور کمزور شخص کو سربراہ بنانے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مطالبہ کر رہی تھی کہ وہ وزارت عظمیٰ چھوڑ دیں، اسمبلیاں تحلیل کرنے کی سمر ی پر دستخط کر دیں تو نواز شریف نے انتخابات قبول کرنے کی بجائے ایک اور مارشل لا لگوا دیا، اس کے بعد جب انہوں نے مشرف سے معاہدہ کیا تو کیاعوام اورکارکنوں سے پوچھ کر کیا تھا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے، جس وقت ماڈل ٹاﺅن میں جدہ روانگی کے لئے سامان پیک کیا جا رہا تھا ،نواز لیگ کی ماریں کھانے والی محترم خاتون رہنما نے مجھے کہا، مبارک ہو ہماری تحریک کامیاب ہو گئی، میں نے حیرانی سے پوچھا کون سی تحریک، اس تحریک کا نام تو’ ملک بچاﺅتحریک‘ تھا، وہ خاتون رہنما افسردگی سے مسکرائیں اور آہستگی سے بولیں، ہم یہی سمجھتے رہے مگر وہ’ شوہر بچاو تحریک‘ تھی۔ کیا ان طعنے دینے والوں کو یاد نہیں کہ آج سے بارہ برس پہلے ہونے والے انتخابات میں جب کوئی نون لیگ کا ٹکٹ لینے کو تیار نہیں تھا تو یہ کارکنوںکو پکڑ پکڑ کر الیکشن لڑنے پر مجبور کر رہے تھے اور پھر عوام نے انہیں اتنے ووٹ دئیے تھے۔

پرویز مشرف کی موجودگی میں ہی یہ پنجاب کی حکومت بنانے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ طعنے دینے والوں کو یاد کرنا چاہئے کہ جب بھی نواز شریف کو حکومت ملی انہوں نے کبھی ماجھے گامے کارکنوں کو منہ نہیں لگایا۔ کیاوہ بتا سکتے ہیں کہ جب وہ مشرف کے مارشل لا کی مار بھی کھا چکے تھے تو انہوں نے وزیراعظم بننے کے بعد پارٹی کو کتنی اہمیت دی جسے جگتوں کانشانہ بنایا جا رہا ہے۔ نواز شریف کابینہ کو بھی خاطر میں نہیں لاتے تھے تو پارٹی کی مجلس عاملہ اور جنرل کونسل کس کھیت کی مولی تھیں، پوری حکومت کے دوران کیاکبھی پارٹی کی جنرل کونسل کا اجلاس ہوا، ہرگز نہیں۔ موصوف جب عدالت سے نااہل قرار ہوئے تو پھر انہیں جنرل کونسل یاد آئی اور بار بار یاد آئی تاکہ پارٹی عہدے گھر میں ہی رکھے جا سکیں۔ کارکن حکومت کے دوران اگر کہیں ایڈجسٹ ہوسکتے تھے تو وہ بلدیاتی نظام تھا مگر شریفوں نے بلدیاتی انتخابات اس وقت کروائے جب عدالت نے مجبور کر دیا ورنہ یہ اختیارات شئیر کرنے پر تیار ہی نہیں تھے۔ آپ بار بار ملک کے لئے جس جمہوریت کا رونا روتے ہیں، افسوس آپ ہوں یا محترم بلاول، اسی جمہوریت کو اپنی پارٹیوں کے قریب سے بھی گزرنے نہیں دیتے ۔طعنے دینے والے بتا سکتے ہیں کہ جب نواز شریف نے جی ٹی روڈ کے ذریعے اسلام آباد سے لاہور آنے کا فیصلہ کیا تو پوری اسٹیبلشمنٹ اور میڈیا کی مخالفت کے باوجود کیا وہ عوام نہیں تھے ۔

جن کا جم غفیر تھا۔ طعنے دینے والے یہ بھی بتائیں کہ جس پارٹی کو کردار نہ ادا کرنے کا کہا جا رہا ہے جب نوازشریف خودکو نظریہ کہتے ہوئے شہر، شہرجا رہے تھے تو ان کے ساتھ پارٹی کے کون سے رہنما ہوتے تھے، معذرت کے ساتھ، ایک بادشاہ کی طرح وہ اپنی سیاسی وراثت اپنی بیٹی کو منتقل کر رہے تھے، ان کے ساتھ جلسوں میں خطاب کا حق صرف مریم نواز کا ہی تھا۔ خواجہ آصف کا طعنہ ہے کہ نواز شریف ہسپتال تھے تو باہر ایک دن بھی سو سے زائد کارکن نہیں ہوتے تھے توطعنہ باز بتا دیں کہ وہ خود کتنے دن ہسپتال کے باہر ڈیرہ ڈالے رہے۔ حال یہ رہا کہ کارکنوں نے سوشل میڈیا پر کال دیتے ہوئے جیل کے باہر نواز شریف سے اظہار یکجہتی کے پروگرام کااعلان کیاتو ٹانگیں کانپنے لگیں۔ مقامی قیادت کوحکم دیا گیا کہ وہ لاتعلقی کا اعلان کردے۔ لطیفہ ہے کہ آپ محض ٹوئیٹ کرنے کا طعنہ اس وقت دے رہے ہیں جب مریم نواز بیرون ملک جانے کی خواہش میں ٹوئیٹ تک سے دستبردار ہوچکی ہیں حالانکہ یہی وہ مریم نواز ہیں جن کے استقبال کے لئے منڈی بہاﺅالدین جیسے پرانے مزاج کے شہروں میں عوام صبح تین بجے تک دیوانہ وار جاگتے اور انتظار کرتے رہے۔آپ کو شرم آنی چاہےے کہ آپ کی حمایت کرنے والے جذباتی صحافی نوکریوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں، کارکن ایف آئی اے ا ور پولیس سمیت دیگر اداروں کے ہتھے چڑ ھ رہے ہیں اور آپ کہہ رہے ہیں کہ کسی نے کوئی کردارادا نہیں کیا۔

مسلم لیگ نون کے حامی اب بھی ملک میں ترقیاتی کاموں کے حوالے سے پارٹی کی پرفارمنس کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیںمگر یہاں سوال نظریاتی موقف کا ہے، کارکنوں اور عوام کو طعنے دینے کی بجائے مان لیجئے کہ نوا ز شریف اپنے ساتھیوں کو ایک مشکل ترین دور میں ایک مرتبہ پھرپھنسانے کے بعد بیماری کا بہانہ بنا کرچھوڑ گئے ہیںاور خیال کر رہے ہیں کہ پہلے کی طرح جب واپس آئیں گے تو یہ احمق اسی طرح نعرے لگاتے گاڑی کو چومنے پہنچ جائیں گے۔ معذرت قبول کیجئے، اب اندازہ ہو، انتخابات سے پہلے نواز شریف اپنی بیٹی کا ہاتھ پکڑ کراس لئے آ گئے تھے کہ ان کا خیال تھاکہ ان کی نام نہاد قربانیوں کو دیکھتے ہوئے قوم دیوانہ وار ایک مرتبہ پھر اقتدار ان کے حوالے کر دے گی مگر ان کی توقعات پوری نہ ہوئیںلٰہذا وہ اپنے بھائی کی کوششوں سے موقع ملتے ہی حسب سابق بھاگ نکلے۔اب جمہوریت ، جمہوریت کی رٹ لگانے والے کارکنوں کے پاس دو آپشن ہیں کہ وہ کسی نئی قیادت کا انتظار کریں تاکہ اس کے ہاتھوں اسی طرح بے وقوف بن سکیں جیسے آپ کے ہاتھوں بنتے رہے یا وہ قومی صورتحال کو مقدر سمجھ کر قبول کر لیں۔ایک آخری بات!اگر آپ کے کارکنوں نے مقتدر حلقوں کی ہی حمایت کرنی ہے توپھر آپ کے ذریعے کیوں کریں، ان کے ذریعے کیوں نہ کریں جن پر مقتدر حلقے اعتماد کرتے ہیں۔ افسوس، تیس چالیس برسوں میں نہ آپ مقتدر حلقوں کے بااعتماد ہوسکے اور نہ اپنے عوام پر اعتماد کر سکے، یہ سوچنا اب آپ کا کام ہے کہ آپ نے مال کے علاوہ اس پورے عرصے میں کیا کمایا اور کیا کھویا۔ جناب !اب آپ آرام کریں اور جیسے آپ خود خاموش ہیں اپنے موجیں لوٹنے والے حواریوں کو بھی کہیں کہ وہ سیاسی کارکنوں اور عوام کی توہین کرنے سے گریز کریں، اپنی زبانوں کو لگا م دے کر رکھیں۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *