ایک عورت اور پیر صاحب

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ہر عورت کی یہی کوشش ہوتی ہے کہ اس کا خاوند اس کے تابیدار ہو۔ اور ایسا کرنے کی کوشش میں اکثر عورت یا تو خاوند کے ساتھ نے اپنی عزت کو دیتی ہیں اور یاد تو بعض اوقات وہ اپنے خاوند کی ہی کو کو دیتی ہیں۔ اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر جھگڑے کی وجہ سے علیدگی کا شکار ہو جاتی ہیں۔ آج ہم آپ کو ایک ایسی عورت کی کہانی سناتی ہیں کہ جو اپنے خاوند کو اپنی تابع کرنا چاہتی ہیں۔

>

ایک پیر صاحب کو ایک عورت چلی گئی اور پیر صاحب سے کہا کہ مجھے کوئی ایسی تعویز دی کہ جس کی وجہ سے میرا خاوند میرے ایسے تابع ہو جائیں کہ جو بات کہوں وہ بات مانے۔ پیر صاحب بھی کافی دانشور انسان تھے۔ اس عورت کی بات کافی غور سے سنیں۔ اور پھر صاحب نے ہی کہا۔ کہ اس کے لیے تو ایک عمل کرنا ہوگا اور وہ بھی شیر کے گردن کے بال و پر، اور سب سے بڑی بات یہ ہے شیر کی گردن کے بال بھی آپ کو خود لانا ہوں گے۔ تب ہی یہ عمل ہوگا۔ ورنہ اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ وہ عورت بہت مایوس ہوگئی۔اور مایوس ہو کر واپس آگئی اور اپنی سہیلیوں کو بتایا۔ایک سہیلی نے دیا کہ کام تو مشکل ہے مگر ناممکن نہیں، تم ایسا کرو کہ روزانہ پانچ کلو گوشت لیکر جنگل جایا کرو اور جہاں شیر آتا ہے وہاں ڈال کر چھپ جاؤ۔ کچھ عرصہ بعد شیر کے سامنے جا کر ڈالو وہ گوشت کا عادی ہو جائیگا۔ تم اس کے قریب جاکر گوشت ڈالنا شروع کر دینا اور اس کی گردن پر پیار سے ہاتھ پھیرنا شروع کر دینا اور جب شیر تم سے مانوس ہو جائے تو گردن سے بال اکھیڑ لینا۔اس عورت کو بات پسند آئی، دوسرے دن ہی اس نے گوشت لیا اور جنگل گئی اور گوشت ڈال کے چھپ گئی، شیر آیا گوشت کھایا اور چلا گیا۔

اس عورت نے ایک ماہ تک ایسا کیا، ایک ماہ بعد اس نے شیر کے سامنے جا کر گوشت ڈالنا شروع کر دیا۔ تاکہ شیر کو پتہ چل سکے کہ اس کی خدمت کون کرتا ہے۔کچھ عرصہ بعد شیر بھی عورت سے مانوس ہو گیا تھا، عورت نے شیر کی گردن پر آہستہ آہستہ پیار سے ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا.ایک دن عورت نے موقع دیکھ شیر کی گردن سے بال اکھیڑا اور خوشی خوشی پیر صاحب کے پاس پہنچ گئی اور بال پیر صاحب کو دیا اور کہا کہ میں شیر کی گردن سے بال اکھیڑ کر لے آئی ہوں اب آپ عمل شروع کریں۔پیر صاحب نے پوچھا: کیسے لائی ہو؟ تو عورت نے پوری تفصیل بتا دی۔پیر صاحب مسکرایا اور کہا کہ کیا تمہارا شوہر اس جنگلی درندے سے بھی زیادہ خطرناک ہے؟جوکہ خونخوار ہوتاہے، جس کی تم نے چند دن خدمت کی اور وہ تم سے اتنا مانوس ہو گیا۔ کہ تم نے اس کی گردن سے بال اکھیڑ لیا اور اس نے تمہیں کچھ بھی نہیں کہا تمہارے شوہر کے ساتھ بھی پیٹ لگا ہوا ہے تم اس کی خدمت کرو جب جنگلی درندہ خدمت سے اتنا مانوس ہو سکتا ہے تو ایک باشعور انسان بھی آپ کے تابع ہو سکتا ہے۔ اس قصے کا مطلب یہ ہے۔ کے خاوند تو بیوی کے ہر وقت تابعدار ہو سکتی ہے۔ لیکن بیوی کو اپنا طریقہ تھوڑا سا بدلنا ہوگا۔ جو بات کی اور خدمت سے مل سکتی ہیں
تو اس کیلئے کڑوی زبان استعمال کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ بیوی تھوڑی سے اپنے خاوند کی تعبیداری کرے۔ خان تو اس کی تعبیداری کیا بلکہ جان دینے کے لئے تیار ہو جائے گا۔ اگر آج کی تحریر آپ کو اچھی لگی ہو تو اپنے دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.