ایک بوڑھا باپ اپنے بیٹے کے ساتھ رہنے کے لئے گیا

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ایک آدمی کا ایک بوڑھا باپ تھا، وہ گاؤں سے باہر شہر میں رہ رہا تھا۔ بیٹھے کے پاس بوڈھا باپ رہنے کے لیے شہر میں گیا۔ کچھ دن بعد بہو اور شوہر نے یہ نوٹ کیا، کہ ان کے بوڑھے باپ کے ہاتھوں سے کمزوری کی وجہ سے جگہ جگہ کھانا وغیرہ گرتے ہیں، اور اسی طرح ان کے ہاتھوں سے ایک دن چائے کا کپ ڈائننگ ٹیبل پر گر گیا، اور سارے دسترخوان کا بیڑہ غرق کردیا۔

>

چائے کی پیالی نیچے فرش پر گر کر کرچی کرچی ہو گئی۔ بوڑھے کو بہت شرمندگی ہو ئی۔ اس کے بیٹے اور بہو نے سوچا کہ ایسے تو روز روز گند مچے گا کیوں نہ ابا جی کی ایک سادی سی لکڑی کی میز ایک کونے میں علیحدہ لگا لیں، ان کے لیے برتن بھی علیحدہ کردیں، لکڑی کے پیالے اور لکڑی کی پلیٹ چمچ علیحدہ کرکے ابا جی کو ان میں کھانا پینا دینے لگے۔ ایک دن میاں بیوی اپنے بیٹے کے ساتھ بیٹھے تھے، بیوی ٹی وی دیکھ رہی تھی، اور شوہر بیٹھا اخبار پڑھ رہا تھا، کہ اس کی نظر اپنے چار سالہ بیٹے پر پڑی۔ اس نے بیٹے سے پوچھا کہ کیا کر رہے ہو، بچے نے ہاتھ میں لکڑی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے جمع کر رکھے تھے۔ ہاتھ کھول کے اپنے باپ کو دکھائے اور بولا کہ آپ اور امی جب بوڑھے ہو جا ئیں گے، تو میرے پاس رہیں گے ناں اس وقت کے لیے آپ دونوں کے لیے لکڑی کے برتن بنا رہا ہوں، کیوں کہ آپ دونوں علیحدہ ٹیبل پر اکیلے کھایا کریں گے۔ بچے کی بات سن کر خاوند دم بخود رہ گیا اور بیوی کی طرف دیکھا جو ٹی وی چھوڑ چھاڑ کے بچے کی بات پر رنجیدہ تھی۔ اگلے دن سے دونوں میاں بیوی نے کونے والا ٹیبل باہر پھینک دیا اور بچے کے داداجان بھی باقی سب کے ساتھ کھانا کھانے لگے۔

آج بھی کمزوری کی وجہ بوڑھے باب سے روزانہ کی حساب سے کھانا گرتا ہے اور کبھی چائے، مگر ان کا بیٹا اور بہو کوئی بھی شکایات نہیں کرتے ۔ انسان جو کچھ بھی اپنی اولاد کو سکھاتا ہے اپنے اعمال کی پاداش اور اپنی تربیت سے سکھاتا ہے۔ جو بھی آج ہم بوئیں گے وہی کل ہم نے کاٹنا ہے تو اپنی رویے کو سب کے ساتھ بہتر بنائیں تاکہ آپ اپنی اولاد کی بہترین پرورش کر سکیں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.