ایک بار میرے منیجر نے مجھے حجاب اتارنےکا حکم دے دیا

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکہ میں اسلام قبول کرنی والی خاتون جنہوں نے عیسائیت ترک کیا۔ مکڈونلڈز کی اس ملازمہ کے ساتھ ساتھی ملازمین ایسا شرمناک سلوک کرتے رہے کہ جس کی وجہ سے لڑکی بالآخر عدالت پہنچ گئی۔ میل آن لائن کے مطابق ڈائمنڈ پوویل جو 28 سالہ لڑکی ہے

>

جس کی رہائش بالتی مور کی ہے اور بی ڈبلیو آئی مارشل ایئرپورٹ پر واقع مکڈونلڈز کی برانچ میں 2016ءسے 2018ءکے درمیان کام کرتی رہی ہے، جہاں ساتھی ملازمین اسے اکثر اوقات ہراساں کرتے اور مذہب تبدیل کرنے پر اسے تضحیک کا نشانہ بناتے تھے۔ڈائمنڈ نے اپنی درخواست میں بتایا ہے کہ ”میرے ساتھی ملازم مجھے جنسی طور پر ہراساں کرتے تھے۔ وہ اکثر مجھے طنزاً پوچھتے کہ آیا میں کنواری ہوں یا نہیں۔ وہ مجھے صاف جگہ پر نماز بھی نہیں پڑھنے دیتے تھے۔ انہوں نے مجھے نماز پڑھنے کی اجازت صرف ایک گندے سٹور روم میں دے رکھی تھی۔ وہ مجھے مجبور کردیتے تھے کہ میں اسی غلیظ روم میں نماز پڑھوں۔ ایک منیجر نے تو مجھ پر نماز کا وقفہ کرنے کی بھی پابندی عائد کر دی تھی۔ “ ڈائمنڈ امریکی شہری ہے اور اس نے فروری 2017ءمیں اسلام قبول کیا تھا، جس کے بعد سے وہ مکمل شرعی پردہ کرتی ہے۔ کام پر بھی وہ حجاب پہن کر جاتی تھی اور اس کے ساتھی ملازمین حجاب کی وجہ سے بھی اس کا تمسخر اڑاتے تھے۔ ڈائمنڈ نے بتایا ہے کہ ایک بار میرے منیجر نے مجھے حجاب اتارنےکا حکم دے دیا۔ ایک اور منیجر نے میرے نماز پڑھنے کی تضحیک کرتے ہوئے ایک بار کہا تھا کہ تمہیں نماز پڑھنے کے لیے اپنے خدا کے بیدار ہونے کا انتظار نہیں کرنا چاہیے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.