ایسا آسان نسخہ جس پر عمل کرتے ہی رزق کے دروازے آپ پر کھل جائینگے

ایک شخص آپ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنی غربت و تنگدستی بیاں کی، آپ ﷺ نے اِ رشاد فرمایا جب تم اپنے گھر میں داخل ہو سلام کیا کرو چاہے کوئی گھر میں ہو یا نہ ہو، پھر مجھ پر درودو سلام بھیجو، اور ایک بار سورہ اخلاص پڑ ہو،

>

اُس شخص نے عمل کیا تو اللہ تعالیٰ نے اُس کی روزی میں اِتنی برکت اور کشادگی دی کہ نہ صرف اُس کے پڑوسی بلکہ اُس کے رشتہ دار بھی فیضاب ہونے لگے۔ اچھی باتیں دوسروں کو بتانا بھی صدقہ جاریہ

لوط علیہ السلام قوم سدوم کی طرف اللہ کےبھیجے ہوئے پیغمبر تھے جنہوں نے کئی سال تک اس قوم کو تبلیغ کی تھی ۔ کہاں جاتا ہے کہ سدوم کا علاقہ اس جگہ پر ہے جہاں آج کل بحر مردار پایا جاتا ہے یہ سمندر دوسرے سمندروں سے بے حد مختلف ہے اور اس میں کسی قسم کی سمندری مخلوق نہیں پائی جاتی ۔

کیونکہ اس کا پانی انتہائی کڑوا ہےلوط علیہ السلام ابراہیم علیہ السلام کے بھانجے تھے جو سفر میں ان کے ساتھ تھے یہاں پہنچ کر ابراہیم علیہ السلام فلسطین کی طرف چلے گے اور اپنے بھانجے کو یہاں چھوڑ دیا ۔

کہاں جاتا ہے کہ یہ علاقہ انتہائی سرسبز تھا یہاں پانی وافر مقدار میں تھا اور یہاں کا باسی غذائی اجناس میں خود کفیل تھا حد نگاہ تک سبزہ نظر آتا تھا اور انتہائی خوشنما پھل دار درخت یہاں پائے جاتے تھے ۔اللہ کی ان نعمتوں کا شکر ادا کرنے کے بجائے یہ لوگ اللہ کی ناشکری اور کفر میں مبتلاء ہوئے ان کی بنیادی خرابیوں میں کفر کے ساتھ ہم جنس پرستی بھی تھی ۔

اس کے ساتھ راہ گزرنے والوں کو لوٹ لیتے تھے جو مہمان آتا ان کے ساتھ بھی بد فعلی سے اجتناب نہیں کیا کرتے تھے ۔ جھوٹ فریب ان کا خاص کام تھا ۔

لوط علیہ السلام نے ان کو اللہ کی طرف بلایا اور ان کو کفر سے اسلام کی طرف دعوت دی اور ان کے اس قبیح فعل سے بہت منع کیا جس کے جواب میں وہ کہا کرتے تھے کہ تم تو صاف لوگ ہو یہاں اس بستی میں تمہارا کیا کام ہے اس لئے یہاں سے نکل جاؤ۔ ایک دن لوط علیہ السلام کے پاس دو فرشتے آئے جو انتہائی خوبصورت جوانوں کے شکل میں تھے ۔

ان کو دیکھ کر لوط علیہ السلام پریشان ہوئے کہ اب میرے مہمانوں کو یہ لوگ تنگ کریں گے ۔ لیکن فرشتوں نے ان سے کہا کہ گھبرائے نہیں ہم اللہ کی طرف سے بھیجے ہوے فرشتے ہیں ہم ان کو عذاب سینے آئے ہیں آپ اپنی قوم کو لے کر صبح سے پہلے نکل جائے اور کوئی بھی مڑ کر نہ دیکھے ۔

لوط علیہ السلام صبح اپنے ساتھیوں کے ساتھ نکل گئے لیکن ان کی بیوی جو کفار کے ساتھ ملی ہوئی تھی وہ بار بار مڑ کر دیکھتی اور کہتی جاتی کہ ہائے میری قوم ۔ اس دوران ایک پتھر آیا اور اس کے منہ پر لگ گیا جس سے وہ فورا ہلاک ہو گئی ۔

کہاں جاتا ہے کہ اس کی لاش اب بھی وہاں موجود ہے جہاں پر عذاب آیا تھا اور دور سے اس کی نشانی بھی نظر آجاتی ہے

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *