اہل بیت کی حکمت

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ملک یمن میں چار اشخاص ایک کنوئیں میں گر گئے، جو انہوں نے شیر پھنسانے کے لیے کھودا تھا۔ اس واقعہ کی تفصیل یہ ہے کہ شیر تو اس کنوئیں میں گر گیا، لیکن ان میں سے ایک کا پیر پھسلا اور اس کنوئیں میں گرا اس نے اپنی جان بچانے کے لیے بدحواسی میں دوسرے کی کمر پکڑ لی۔

>

وہ بھی سنبھل نہ سکا اور گرتے گرتے اس نے تیسرے کی کمر تھام لی، تیسرے نے چوتھے کو پکڑ لیا، غرض چاروں اس میں گر پڑی۔ اور شیر نے ان چاروں کو مار ڈالا۔ ان مقتولین کےورثاء آمادہ جنگ ہوئے۔ حضرت علیؓ نے ان کو ہنگامہ و فساد سے روکا اور فرمایا کہ میں فیصلہ کرتا ہوں اگر وہ پسند نہ ہو تو دربارِ رسالت میں جا کر تم اپنامقدمہ پیش کر سکتے ہو۔ لوگوں نے رضا مندی ظاہر کی۔ آپؓ نے یہ فیصلہ کیا، کہ جن لوگوں نے یہ کنواں کھودا ہے ان کے قبیلوں سے ان مقتولین کے خون بہا کی رقم اس طرح وصول کی جائے، کہ ایک پوری ایک ایک تہائی ایک ایک چوتھائی اور ایک آدھی۔ پہلے مقتولین کے ورثاء کو ایک چوتھائی خون بہا، دوسرے کو تہائی، تیسرے کو نصف اور چوتھے کو پورا خون بہا دلایا، اس لیے کہ پہلے نے اپنے اوپر والے کو ہلاک کیا، دوسرے نے اپنے اوپر والے کو اور تیسرے نے بھی اپنے اوپر والے کو ہلاک کیا۔ غرض یہ کہ سب نے اپنے اوپر والے کو ہلاکت میں ڈالا۔ لوگ اس فیصلہ سے راضی نہ ہوئے اور حجۃ الوداع کے موقعپر حاضر ہو کر اس فیصلہ کا مرافعہ (ایپل) عدالت نبویؐ میں پیش کیا، آنحضرتؐ نے اس فیصلہ کو برقرار رکھا اور فرمایا: خدا کاشکر ہے جس نے ہم اہل بیت میں حکمت کو رکھا ہے۔‘‘

Sharing is caring!

Comments are closed.