’’ آقا کریم ﷺ کی حیات مبارک سے عدل و انصاف کی عظیم داستان ‘‘ یہ تحریر آج کے حکمرانوں کو ضرور پڑھنی چاہئے ‎

تلوار کے زور پر اسلام پھیلنے کا واویلا کرنے والوں کو شاید معلوم نہیں کہ اسلام کے آنے کے بعد دنیا نے ایک ایسے نظام کو دیکھا جو سراپا عدل و انصاف تھا جہاں توحیدورسالت،عبادت ، عدل و انصاف کے نظام کے ساتھ مضبوط معاشی نظام بھی موجود تھا جس میں زکوٰۃ کی مد میں امیروں سے لیکر غریبوں میں تقسیم کے عمل کی بدولت معاشی خوشحالی تھی، قانونِ مساوات کی بدولت لوگ مطمئن تھے۔

>

جس کی مثال دین اسلام کے پیغمبر نبی کریم ﷺ نے قائم کی ۔ آپﷺ کی عدالت میں ایک مقدمہ پیش کیا گیا ایک خاتون جس کا نام فاطمہ تھا اس پر چوری کا الزام تھا اور وہ ایک بڑے اثر و رسوخ والے قبیلے سے تعلق رکھتی تھی ۔ آپﷺ نے سماعت کے بعد خاتون کو چوری کا الزام ثابت ہونے پر سزا سناتے ہوئے اس کے ہاتھ کاٹنے کا حکم صادر فرمایا، سفارشیں آنے لگ گئیں اور سفارش بھی کون کر رہا تھا حضورﷺ کے قریبی ساتھی، آپ ﷺ نے اس موقع پر ایک ایسا جملہ ارشاد فرمایا جو قیامت تک آنے والی انسانیت کیلئے عدل و مساوات کی اساس و بنیاد قرار دے دیا گیا۔ آپﷺ نے فرمایا کہ ’’اگر اس فاطمہ کی جگہ میری اپنی بیٹی فاطمہؓ بھی ہوتیں تو میں اس کے ہاتھ بھی کاٹنے کا حکم صادر کرتا‘‘۔ یوں اسلام کے اولین دور میں ہی آپﷺ نے سفارش کو رد کرتے ہوئے عدل و انـصاف کا ایک معیار قائم کر دیا جس کو آپﷺ کے بعد آنے والے خلفائے راشدین ، صحابہ ؓاور نیک اور عادل مسلمان حکمرانوں نے اپنا یا جس کی بدولت دین اسلام کو تقویت ملتی رہی اور دنیا میں اسلام کا غلبہ ہوا۔ اسلام کے تلوار کے زور پر پھیلنے کا پروپیگنڈہ کرنے والوں کے لئے یہاں ہم ایک ایسا واقعہ پیش کر رہے ہیں جو یقیناََ نہ صرف ان کی سوچ میں تبدیلی بلکہ اسلام کے نـظام عدل کی بہترین تصویر پیش کرنے میں مددگار و معاون ثابت ہو گا۔ سمر قند فتح کی مہم کے سپہ سالار قتیبہ بن مسلم تھے اور کچھ ہی دن میں وہاں اسلامی حکومت قائم ہو گئی، قاضی کی عدالتیں قائم ہو گئیں اور نظام حکومت احسن طریقے سے چل پڑا۔ اسی دوران سمر قند کے غیر مسلم باشندوں کی طرف سے قاضی کی عدالت میں ایک مقدمہ پیش کیا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ سمر قند پر مسلم سپاہ کی حکومت غیر قانونی ہے، قاضی نے دلائل مانگے تو غیر مسلموں نے کہا جب بھی مسلمان کہیں جاتے ہیں تو پہلے اسلام کی دعوت دیتے ہیں، اگر نہ مانا جائے تو جزئیے کیساتھ سرنڈر کرنے کو کہا جاتا ہے اور اگر انکار کیا جائے تو پھر اسلامی لشکر جنگ کرتا ہے۔

جبکہ سمر قند میں کسی کو اسلام کی دعوت دئیے بغیر اسلامی سپاہ سمر قند میں داخل ہو گئیں اور اسلامی نظام حکومت قائم کر دیا۔ غیر مسلموں کی بات سن کر قاضی کے چہرے کا رنگ متغیر ہو چکا تھا ، فوراََ اسلامی لشکر کے سپہ سالار قتیبہ بن مسلم کو طلب کر لیا، پھر یہ منظر تاریخ کے اوراق میں رقم ہو گیا،اسلامی لشکر کے سپہ سالارقتیبہ بن مسلم عدالت میں قاضی کے روبرو مؤوب کھڑے تھے، قاضی نے سمر قند کے باشندوں کے مقدمے کی بابت سوال کیا، قتیبہ بن مسلم نے کچھ دلائل دئیے وضاحتیں پیش کیں مگر قاضی نے ان سب کو رد کر دیا اور پھر ایک تاریخ ساز فیصلہ دیا ، قاضی نے فیصلہ کرتے ہوئے حکم دیا کہ جو بھی مسلم سپاہی سمر قند میں موجود ہیں وہ فوری طور پر سمر قند خالی کر دیں اور سپہ سالار بھی فوراََ سے پہلے سمر قند کی حدود سے باہر نکل جائیں اور پھر یہی نہیں بلکہ قاضی نے اپنا دفتر بھی لپیٹا اور سمر قند سے باہر جانے کو تیار ہو گیا۔فلک نے پھر یہ نظارہ بھی دیکھا کہ فاتح اسلامی لشکر اپنے سپہ سالار قتیبہ بن مسلم کی قیادت میں قاضی کے فیصلے کے مطابق جب فتح کئے گئے سمر قندکو خالی کر کے وہاں سے نکلنے لگا تو انہیں سمر قند کے غیر مسلموں نے روک لیا اور کہا کہ ’’ایسا انصاف ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھا اور قاضی کا یہی فیصلہ اور سپہ سالار کا سر تسلیم خم سمر قند میں فروغ اسلام کا باعث بنا اور لوگوں کی بڑی تعداد دائرہ اسلام میں داخل ہو گئی۔

Sharing is caring!

Comments are closed.