اِخلاص کسے کہتے ہیں

سبحان اللہ جُنید بغدادی کہتے تھے کہ میں نے اِخلاص ایک حجام سے سِیکھا۔ ایک میرے اُستاد نے کہا کہ تُمہارے بال بہت بڑھ گئے ہیں اب کٹوا کے آنا پیسے کوئی تھے۔ نہیں پاس میں، حجام کی دُکان کے سامنے پہنچے تو وہ گاہک کے بال کاٹ رھا تھا اُنہوں نے عرض کی۔
چاچا اللہ کے نام پہ بال کاٹ دو گے یہ سنتے ہی حجام نے گاہک کوسائیڈ پر کیا اور کہنے لگا۔ پیسوں کے لیے توروز کاٹتا ھوں اللہ کے لیے آج کوئی آیا ھے۔ اب انُکا سر چُوم کے کُرسی پہ بٹھایا روتے جاتے اور بال کاٹتے جاتےحضرت جنید بغدادی نے سوچا کہ میں جب کبھی پیسے ھوئے توان کو ضرور کچھ دوں گا۔عرصہ گزر گیا یہ بڑے صوفی بزرگ بن گئے ایک دن ملنے کے لیے گئے واقعہ یاد دلایا اور کچھ رقم پیش کی۔ تو حجام کہنے لگا جُنید تو اتنا بڑاصوفی ھوگیا تجھےاتنا نہیں پتا چلا کہ جو کام اللہ کے لیے کیا جائے اس کا بدلہ مخلوق سے نہیں لیتے۔ بطور مسلمان یہ ہم سب کا عقیدہ ہے کہ ہمیں آخرت میں اپنے دنیا میں کئے گئے تمام اعمال کا حساب دینا ہے۔ مختلف حوالوں کو مدنظر رکھا جائے تو ہمیں پتا چلتا ہے کہ بروز محشر جہاں نہ ماں اپنے بیٹے کو پہچانے گی اور نہ بیٹا اپنی ماں کو۔ ہر شخص ایک ایک نیکی کو ترس رہا ہوگا اور خود پر افسوس کرے گا کہ میں نے دنیا میں رہ کر نیک اعمال کیوں نہ کئے اور میں کیوں کر گناہوں میں پڑا۔ حضور پاکؐ کا فرمان عالیشان کا مفہوم ہےقیامت کے دن کوئی ایسی آنکھ نہ ہوگی جو رو نہیں رہی ہوگی پس صرف تین ایسی آنکھیں ہیں جو نہیں رو رہی ہوں گی۔

ان تین آنکھوں میں سے پہلی آنکھ وہ ہے جو غیر محرم کی طرف دیکھنے سے بچی۔دوسری وہ آنکھ جو اللہ عزوجل کی راہ میں اس کے راستے کے اندر جاگتی رہی، پہرہ دیتی رہی یا سرحدوں کے اوپر حفاظت میں مشغول رہی۔اور تیسری وہ آنکھ جو جس کے بارے میں جان کر آپ کے بھی رونگٹے کھڑے ہوجائیں گے۔ فرمایا تیسری وہ آنکھ جس سے خوف خدا میں مکھی کے سر کے برابر بھی آنسو نکلا ہو۔ حضور پاکؐ کے فرامین کی روشنی میں نظر کی حفاظت بے حد ضروری ہے اور اللہ عزوجل نے خصوصیت کے ساتھ قرآن پاک میں اس کا تذکرہ ارشاد فرمایا ہے۔:مفہوم ملاحظہ فرمائیںاور اپنی شرمگاہ کی حفاظت کریں، یہ بہتر ہے ان کے لئے۔ بے شک اللہ ان کے کاموں کی خبر رکھتا ہے یعنی اگر تم اپنی نظر کو محفوظ نہیں رکھ پاتے تو مت سمجھو کہ کسی نے دیکھا نہیں ہے، تمہارا رب دیکھ رہا ہے۔ اس کی نظر سے کوئی شے پوشیدہ نہیں ہے۔ ایک ایک چیز لکھی جارہی ہے اور اس کا حساب کل تمہیں دینا پڑے گا۔ بے شک وہ جانتا ہے وہ دیکھ رہا ہے اگر تم بچ جاؤ تو وہ پھر بھی دیکھ رہا ہے اور اگر تم نہ بچو تو وہ پھر بھی دیکھ رہا ہے۔دوسری طرف مسلمان عورتوں کو بھی یہ حکم دیا ہے کہ اے محبوب مسلمان عورتوں کو بھی یہ حکم دیں کہ وہ بھی اپنی نظروں کو نیچا رکھیں۔ اگر مرد کو روکا گیا ہے کہ وہ غیر محرم عورت کو نہ دیکھے تو عورت کو بھی روکا گیا ہے۔ اس لئے ہر صاحبِ ایمان مسلمان کو اپنی آنکھوں کی حفاظت کرنی چاہیئے اپنی آنکھوں کو ان آنکھوں میں شمار کرنا چاہیئے جن سے قیامت کے دن آنسو نہ گر رہے ہوں یا نہ رو رہی ہوں۔اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی آنکھوں کی حفاظت کرنے والا سچا پکا مسلمان بننے کی توفیق عطا فرمائے (آمین۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *