ان سب کے دلوں کی کشتی کو الٹ کر ان کو نیک بنا دیجئے

این این ایس نیوز!ایک مرتبہ ابراہیم ادھم رحمتہ الله علیہ نے حلق کروایا۔ یعنی ٹنڈ کروائی۔ وہ کشتی پر سوار ہوکر کہیں جارہے تھے۔ آپ کشتی میں ذکرو اذکار میں مشغول ہوگئے۔۔۔جب چھوٹے بچوں نے چمکتی ہوئی ٹنڈ دیکھی تو ان کو اچھی لگی۔ چھوٹوں کو کیا وہ بڑوں کو بھی اچھی لگتی ہے۔ ٹنڈ کروائیں تو اس پر ہاتھ پھیرنے کا اپنا مزہ ہوتا ہے۔ ایک بچے نے پاس آکر ان کے سر کے اوپر ہاتھ پھیرا تو اس کو بڑا مزہ آیا۔

دوسرے بچے نے بھی ہاتھ پھیرا تو اسے بھی مزہ آیا۔ اس نے تیسرے کو بتایا، حتی کہ بچے باری باری آتے رہے اور ان کی ٹنڈ پر ہاتھ پھیر کر جاتے رہے۔ ان میں سے ایک بچہ کچھ زیادہ ہی شرارتی تھا۔ جب وہ آیا اسے شرارت سوجھی اور اس نے ہاتھ پھیرنے کے بعد ایک تھپڑ سا لگا دیا۔ اس کے بعد دوسرے بچے نے بھی تھپڑ لگا دیا، اس کے بعد تیسرے نے بھی لگا دیا۔ بچے ان کو تھپڑ لگاتے رہے اور بڑے ان کو دیکھ کر ہنستے رہے۔ کشتی کے سب آدمی ان کا مذاق اڑانے لگے۔ حتی کہ عجیب طوفان بعد تمیزی بپا ہوا۔ جب انہوں نے الله کے ایک والی کو اس طرح بہت زیادہ ایذا پہنچائی تو پھر الله رب العزت نے فرمایا۔ چنانچہ الله رب العزت نے ان کو الہام فرمایا، “ے ابراہیم ادھم! انہوں نے طوفان بدتمیزی بپا کرنے میں حد کردی ہے ، اگر اس وقت تو دعا کرے تو میں اس کشتی کو الٹ دوں تاکہ یہ سب کے سب غرق ہو جائیں”۔ جیسے ہی ابراہیم ادھم رحمتہ الله علیہ کے دل میں یہ الہام ہوا تو انہوں نے فورا ہاتھ اٹھا کر یوں دعا مانگی، “اےالله! اگر آپ کشتی کو الٹنا ہی چاہتے ہیں تویہ جتنے بندے موجود ہیں، ان سب کے دلوں کی کشتی کو الٹ کر ان کو نیک بنا دیجئے”۔ ابراہیم ادھم رحمتہ الله علیہ کی یہ دعا قبول ہوگئی۔ چنانچہ کہا جاتا ہے کہ کشتی میں جتنے بندے بھی تھے الله تعالیٰ نے ان کو مرنے سے پہلے ولایت کا مقام عطا فرما دیا۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.