امام بخاری اور ایک چور کا واقعہ

امام بخاریؒ کا مشہور واقعہ ہے، ایک مرتبہ کشتی میں سفر کر رہے تھے، اس وقت ان کے پاس ایک ہزار اشرفی تھے، راستے میں ایک بندے نے ان کے ساتھ بات چیت کرنا شروع کر دی، باتوں باتوں میں انہوں نے تذکرہ کردیا کہ میرے پاس اتنی رقم ہے، بس ایسے ہی برسبیل تذکرہ بات کر دی، وہ کوئی بڑا شاطر انسان تھا، تھوڑی دیر کے بعد اس نے شور مچا دیا کہ میرے پاس ایک تھیلی تھی وہ کسی نے چوری کر لی ہے،اس میں میرے چھ ہزار دینار تھے، لوگوں نے پوچھا کہ وہ تھیلی کس رنگ کی تھی؟ اس نے کہا: وہ اس رنگ کی تھی، کیونکہ اسے پتہ تھا کہ ان کے پاس اس رنگ کی تھیلی میں اتنے

ہزار دینارہیں، جب اس نے شور مچایا تو کشتی کے سب لوگ کہنے لگے کہ سب کی تلاشی لو تاکہ پتہ چلے کہ وہ کہاں ہے. امام بخاریؒ سمجھ گئے، انہوں نے دل ہی دل میں سوچا کہ اگر لوگ تلاشی لیں گے اور انہیں میرے پاس سے تھیلی مل جائے گی، تو مجھے سب لوگ چور سمجھیں گےاس بندے کو پکا پتہ تھا کہ میرے رشتہ دار بھی میرے ساتھ ہیں، جب ان کی تلاشی لی جائے گی اور ان کے پاس اسے پائیں گے تو لے لیں گے، چنانچہ انہوں نے تلاشی لینا شروع کر دی، جب تلاشی لیتے لیتے امام بخاریؒ کے پاس آئے اور ان کی تلاشی لی تو ان کے پاس بھی تھیلی نہیں تھی، پوری کشتی میں سے تھیلی کہیں سے نہ ملی، اس نے اپنی جھوٹ اور بناوٹی پریشانی کا مزید اظہار کیاجب کشتی کنارے پر لگی اور امام بخاریؒ آگے چلے تو وہ آدمی آپ کے قریب آیا، اس نے حضرت سے معافی مانگی اور کہا: جی میں بہت شرمندہ ہوں، میں نے آپ کے ساتھ بڑی زیادتی کی ہے، آپ اچھے بندے ہیں لہٰذا مجھے معاف کر دیں، حضرتؒ نے فرمایا: میں نے تجھے معاف کردیا، پھر اس نے سوال کیا حضرتؒ ! آپ نے مجھے معاف تو کر دیا مگر مجھے یہ سمجھ نہیں آئی کہ آپ نے وہ تھیلی چھپائی کہاں تھی؟فرمایا! جب میں نے اعلان سنا کہ تھیلی چوری ہو گئی ہے تو میں سمجھ گیا تھا میں چونکہ کنارے پر بیٹھا تھا

اس لیے میں نے وہ تھیلی چپکے سے دریا میں گرا دی، اس نے حیران ہو کر پوچھا: چھ ہزار دینار کی تھیلی دریا میں پھینک دی؟ فرمایا: ہاں اگر میں اسے اپنے پاس رکھتا تو لوگ مجھے چور سمجھتے، کیا مجھ سے کوئی حدیث کی روایت کرتا؟ اگر میں ایسا نہ کرتا اور چوری کا الزام مجھ پر ثابت ہو جاتا تو میں حدیث پاک کی روایت سے ہمیشہ کے لیے محروم ہو جاتا، میں نے روایت حدیث والی نعمت کو بچانے کی خاطر اس مال کو قربان کر دیا.

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *