اللہ تک پہنچنے کا طریقہ

بغداد کے ایک بادشاہ تھے۔ جس کی یہ خواہش تھی۔ کہ وہ بہلول دانہ سے ملیں کیونکہ بہلول دانا اپنے دور میں اس کے قصے کافی مشہور تھے۔ کیونکہ وہ دنیا سے نہ محبت کرنے والے انسان تھے اور وہ فقیری میں اپنی ساری زندگی بسر کرنا پسند کرتے تھے۔بغداد کے بادشاہ نے خواہش کی کے حضرت بہلول دانا ؒ اس سے ملاقات کریں لیکن آپ رحمتؒ کبھی بھی بادشاہ کے دربار میں تشریف نہ لے گئے .
ایک دن یوں ہوا کہ بادشاہ چھت پر بیٹھا تھا کہ اس نے حضرت بہلول دانا ؒ کو شاہی محل کے قریب سے گزرتے دیکھا . فورا حکم دیا کہ حضرت بہلول داناؒ کو کمند ڈال کر محل کی چھت پر کھینچ لیا جائے . چنانچہ ایسا ہی کیا گیا . جب آپؒ بادشاہ کے سامنے پہنچے تو بادشاہ نے پوچھا یہ فرمائیے آپ اللہ تک کیسے پہنچے ؟فرمایا : جس طرح آپ تک پہنچا بادشاہ نے عرض کی ” میں سمجھا نہیں ” فرمایا ، ” اے بادشاہ ! اگر میں خود آپ تک پہنچنا چاہتا تو نہا دھو کر ، لباس _ فاخرہ پہن کر ، دربان کی منتیں کر کے محل کے اندر داخل ہوتا . پھر عرضی پیش کرتا ، پھر گھنٹوں انتظار کرتا ، پھر بھی ممکن تھا کہ آپ میری درخواست رد کر دیتے . لیکن جب آپ نے خود مجھے بلانا چاہا تو محض کچھ لمحوں میں ہی اپنے سامنے بلا لیا . اسی طرح جب اللہ کو اپنے بندے کی کوئی ادا پسند آتی ہے تو اسے لمحوں میں قرب کی وہ منزلیں طے کروا دی جاتی ہیں جو بڑے بڑے عابدوں کیلئے باعث رشک بن جاتی ہیں۔ اللہ تعالی ہمیں بھی ایسی عمال ڈالنے کی توفیق عطا فرمائیں جس سے ہم اللہ کو پسند آئے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *