اس شرط پر بیوی چاہے تو طلاق کے بغیر دوسری شادی کرسکتی ہے

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) السلام علیکم دوستو کیسے ہو امید ہے کہ آپ سب ٹھیک ٹھاک ہوں نگے اور خیر خیریت سے ہونگے۔ دوستو دین اسلام ہماری لیے مکمل ضابطہ حیات ہے۔ اس میں ہماری لئے مکمل رہنمائی رکھی ہوئی ہے۔ چاہیے دنیا کے بارے میں ہوں یا آخرت کے بارے میں ہوں۔ یا کاوربار ہو یا رشتہ ازواج زندگی ہو سب کے بارے میں مکمل رہنمائی رکھی ہوئی ہے۔
شادی کے بارے میں بعض ایسے مسائل ہیں جن کے بارے میں ہمیں بالکل بھی علم نہیں ہے کس شرط پر بیوی بغیر طلاق کے دوسری شادی کر سکتی ہے؟معروف عالم دین نے شرعی مسئلے کا حل بتا دیا۔ اس شرط پر بیوی چاہے تو طلاق کے بغیر دوسری شادی کرسکتی ہے۔ازوجی زندگی کے بارے میں کچھ ایسے بھی مسائل ہیں جن کے بارے میں ہمیں بالکل بھی ناواقف علم ہے کس بنا پر بیوی بغیر طلاق کے دوسری شادی کر سکتی ہے؟ عالم دین اس شرعی مسئلے کا حل بتا دیا۔ اس شرط کے بنا پر بیوی چاہے تو طلاق کے بغیر بھی دوسری شادی کرسکتی ہے۔ جس وجہ عورت کا خاوند مفقود الخبر(غائب)ہو وہ امام مالکؒ کے فتویٰ کے مطابق چار سال کے بعد بغیر طلاق کسی اور جگہ حسب منشا عقد نکاح کر سکتی ہے، معروف عالم دین نے فتویٰ جاری کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق منہاج القرآن کی فتویٰ ویب سائٹ پرایک سوال کا جواب دیتے ہوئے مفتی محمد شبیر قادری کا کہنا تھا کہ جس عورت کا خاوند مفقود الخبر (غائب) ہو وہ امام مالک ؓ کے فتویٰ کے مطابق چار سال تک شوہر کا انتظار کر کے کسی اور جگہ حسب منشاء عقد نکاح کر سکتی ہے۔

مذکورہ عورت کو مجسٹریٹ کے روبرو پیش ہو کر اور اپنے خاوند کے مفقود الخبر یعنی غائب ہونے کا ثبوت دے کر، دوسری شادی کا اجازت نامہ حاصل کر کے دوسری شادی کر لینی چاہیے۔ جب شادی کا حکم بھی معلوم ہو گیا اور مجسٹریٹ کا اجازت نامہ بھی مل گیا تو پہلے شوہر کے واپس آنے کی صورت میں بھی کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہو گا۔ کیونکہ اس طرح شرعی مسئلہ کو ریاستی تحفظ حاصل ہو گا،پہلے خاوند کے آنے پر یہ عورت دوسرے خاوند کی ہی بیوی رہے گی، یعنی پہلے سے کوئی تعلق نہ ہو گا۔ یاد رہے کہ اسلام میں ہر مسلئے کا حل ہے۔ لیکن ہماری دوری اور نہ واقفیت کی وجہ سے اکثر ہم غلط فیصلے کر لیتے ہیں یعنی جس کا اسلام سے کوئی دور تک تعلق نہیں رہتا۔ اگر آپ کو یہ پوسٹ پسند آئے تو اسے لائک کریں اور آگے شیئر کر دیں۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *