اسلام ہمیں اس چیز کی اجازت نہیں دی تھی

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) عاصمہ بی بی جو راولپنڈی کے ساتھ نزدیک ٹیکسلا میں رہائش پذیر ہے۔ عاصمہ نے دھوکہ دہی سے اپنے آپ کو مرد ظاہر کر کے اپنے دوست نہا کے ساتھ شادی کرلی۔ عاصمہ نے اس کے ساتھ شناختی کارڈ میں بھی اپنا نام تبدیل کر ویا آکاش علی رکھ لیا۔ اور بعد میں اس نے خود کو لڑکا ظاہر کرکے نیہا نامی لڑکی سے عدالت میں شادی کرلی۔ دونوں لڑکیاں ٹیکسلا کی رہائشی ہیں۔
جب نیہا کے والد کو اس کے بارے میں پتہ چلا تو اس نے لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ میں درخواست دائر کردی۔ وکیل امجد جنجوعہ کا کہنا ہے کہ دونوں لڑکیوں کے نکاح کی رجسٹریشن کنٹونمنٹ بورڈ وارڈ 10 میں ہوئی، عاصمہ عرف آکاش علی کا کہنا ہے کہ اس نے اپنی جنس تبدیل کرائی ہے۔ لیکن پاکستان میں جنس کی تبدیلی ناممکن ہے جبکہ یہ غیر شرعی کام ہے۔ لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ نے نیہا کے والد کی درخواست منظور کرتے ہوئے دونوں لڑکیوں کو کل طلب کرلیا ہے۔ یاد رہے کہ ہم جنس پرستی غیر مسلم ملکوں میں بالکل عام ہیں۔ لیکن اسلام ہمیں اس چیز کی اجازت نہیں دی تھی۔

>

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *