اخلاص کی اہمیت میں نے ایک حجام سے سیکھی

السلام علیکم دوستو کیسے ہو میرے کے آپ سب ٹھیک ٹھاک ہونگے دوستو آج ہم آپ کو حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ کا ایک واقعہ سناتے ہیں یہ وہ واقع ہے جو حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ اور ایک حجام کے درمیان پیش آیا۔ ایک واقعہ کسی صاحب نے لکھ بھیجا ہے، جنیدِ بغدادؒ کے بارے میں، جنہیں سید الطائفہ کہا جاتا ہے، یعنی عہدِ تابعین کے بعداولیا کا سردار۔نامور کالم نگار ہارون الرشید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں جنیدؒ وہ ہیں۔

جنہوں نے سب سے پہلے بیعت لی۔ حکمرانی کی نہیں، اخلاقی اور علمی تربیت کی بیعت۔ایک بار انہوں نے کہا تھا اخلاص کی اہمیت میں نے ایک حجام سے سیکھی۔ میرے استاد نے کہا: تمہارے بال بڑھ گئے ہیں۔ اگلی بار کٹوا کر آنا۔ روپیہ میرے پاس نہیں تھا۔ اتنا بھی نہیں کہ حجام کو ادائیگی کر سکوں۔ ایک حجام کی دکان پہ پہنچا جو گاہک کے بال کاٹ رہا تھا۔ معلوم نہیں، میرے جی میں کیا آئی کہ میں نے کہا: چچا کیا اللہ کے نام پر بال کاٹ دو گے؟ یہ سنتے ہی حجام نے گاہک سے معذرت کی اور کہا: پیسوں کے لیے ہر روز کاٹتا ہوں۔ آج پہلی بار کوئی اللہ کے لیے آیا ہے۔ اب ان کا سر چوم کر کرسی پر بٹھایا۔ روئے جاتا او ربال کاٹتا جاتا۔ جنیدؒ کہتے ہیں: میں نے سوچا، زندگی میں جب کبھی پیسے ہوئے تو ضرور اسے کچھ دوں گا۔ ایک زمانہ گزر گیا؛حتیٰ کہ عظمت ان پر ٹوٹ ٹوٹ کر برسنے لگی۔ یہی وہ زمانہ ہے، جب انہوں نے کہا تھا: دنیا کو دل کے دروازے پر بٹھا رکھا ہے۔ جس چیز کی ضرورت ہو، ہاتھ بڑھا کے لے لیتے ہیں۔ دل میں داخل ہونے کی اسے اجازت نہیں۔ بھولا ہوا واقعہ یاد آیا۔ حجام کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ واقعہ یاد دلایا اور کچھ رقم پیش کی۔ حجام نے کہا: جنیدؒ تو اتنا بڑا عارف ہو گیا مگر تجھے پتہ نہ چلا کہ جو کام صرف اللہ کے لیے کیا جائے،مخلوق سے اس کا بدلہ نہیں لیا جاتا۔ ہم امید کرتے ہیں کہ آج کی یہ تحریر آپ کو ضرور پسند آئی ہوگی مزید اچھی تحریروں کے لئے ہمارے پیج کو فالو اور لائیک کرے اور کمنٹ میں ضرور آگاہ کریں۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *